جموں و کشمیر : ڈی ایس پی محمد ایوب کے اہل خانہ کا سوال ، کیا اسی آزادی کے لئے ہم لڑ رہے ہیں؟

Jun 23, 2017 05:56 PM IST | Updated on: Jun 23, 2017 05:56 PM IST

سری نگر : جموں و کشمیر میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں تقریبا 12 بجے بھیڑ نے نوهٹہ کی جامع مسجد کے باہر جموں و کشمیر کے ڈپٹی ایس پی محمد ایوب پنڈت کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ جہاں ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اس کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور انہوں نے کشمیری لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ سیکورٹی فورسز کے صبر کا امتحان نہ لیں۔ وہیں اس واقعہ کے بعد سے پولیس افسران کے اہل خانہ اور قریبی بھی کافی ناراض ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ایوب کے ایک قریبی خاتون رشتہ دار نے کہا کہ ہم کس حالت میں پہنچ گئے ہیں کہ کسی وجہ کے بغیر مسجد کے باہر ہم کسی شخص کو مار دیتے ہیں؟ یہ سب کس مذہب میں سکھایا جاتا ہے؟۔ خاتون رشتہ دار نے کہا کہ کیا یہی وہ آزادی ہے، جس کے لئے ہم لڑ رہے ہیں ، تاکہ ہم لوگوں کو مار سکیں؟ اس طرح کی آزادی کا ہم کیا کریں گے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسر کا قتل کسی دہشت گرد یا پھر فوج کے لوگوں کے ہاتھوں نہیں ہوا ہے، بھیڑ نے ان کے قتل کیا ہے، ان لوگوں نے ایک معصوم کی جان لے لی۔

جموں و کشمیر : ڈی ایس پی محمد ایوب کے اہل خانہ کا سوال ، کیا اسی آزادی کے لئے ہم لڑ رہے ہیں؟

خاتون نے حریت رہنماؤں سے پوچھا کہ کشمیر کس طرح کا سماج بن گیا ہے۔ انہوں نے مقتول افسر پنڈت کی بیوی اور بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہجوم نے ایک انسان کی جان نہیں لی ہے ، بلکہ ان کے ساتھ تین اور لوگوں کی جان لی ہے، ہمارے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز