علی گڑھ میں 100 سال سے مسلم کاریگر ہی بناتے ہیں راون کا پتلا

علی گڑھ ۔ ملک میں جہاں کچھ فرقہ پرست لوگ نفرت کی بات کرتے ہیں وہیں بہت سے ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارہ بڑھانے کا کام کررہے ہیں۔

Sep 30, 2017 07:19 PM IST | Updated on: Sep 30, 2017 07:19 PM IST

علی گڑھ ۔ ملک میں جہاں کچھ فرقہ پرست لوگ نفرت کی بات کرتے ہیں وہیں بہت سے ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارہ بڑھانے کا کام کررہے ہیں۔ اچھائی کی جیت پر برائی کی ہار سے تعبیر کئے جانے والے تیوہار دشہرہ میں جلائے جانے والے راون کو بنانے والے ہاتھ مسلم سماج کے ہیں۔  وہ اس کام کو نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ کرتے ہیں جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔

گنگا جمنی تہذیب کاعلمبردارشہر علی گڑھ ایک انوکھی مثال قائم کئے ہوئے ہے ۔ ان دنوں برادرانِ وطن کے تیوہار دشہرہ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ تیوہار کے موقع پر جلائے جانے والے راون کے پتلے ہر کسی کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے ۔ بڑے سے بڑا پتلا بنوانا ہر جگہ کے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے۔ ان پتلوں کے کاریگر زیادہ ترمسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں انکو  بھی سال بھر اس تیوہار کا انتظار رہتا ہے ۔ علی گڑھ میں راون، کمبھ کرن، میگھناتھ کے پتلے بنانے والے اشفاق احمد بتاتے ہیں کہ یہ کام انکا خاندان سوسال سے کرتا چلا آ رہا ہے۔  خود اشفاق کو 50 سال ہوگئے ہیں اور اس کام کوکرنے میں جہاں انکو مہارت حاصل ہے۔  وہیں اسی سے انکا ذریعہ معاش جڑا ہوا ہے ۔ کاریگر ادریس کا کہنا ہے کہ انکو اس کام کو کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔  جب دشہرہ کے میلے میں انکے بنائے ہوئے پتلوں کی تعریف ہوتی ہے تو مہینہ بھرکی محنت وصول ہوجاتی ہے۔

علی گڑھ  میں 100 سال سے مسلم کاریگر ہی  بناتے ہیں راون کا پتلا

علی گڑھ کے نمائش میدان میں تیار ہورہے راون، کمبھ کرن ،میگھنات کے پتلے مسلم کاریگر جس عقیدت سے بناتے ہیں اتنی ہی عقیدت  سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں جب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ انکے تیوہار میں جلنے والے پتلے مسلم بھائیوں کے ہاتھوں تیار ہوئے ہیں تو وہ اسکو قومی ایکتا کی مثال بتاتے ہیں ۔ساتھ ہی ان پتلوں کو دیکھنے کے لئے جہاں برادرانِ وطن پہنچتے ہیں وہیں مسلم خاندان کے افراد بھی اپنے بچوں کو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذہب سے واقف کرانے کے لئے یہاں لاتے ہیں اور بچوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کس طرح سے سبھی مذاہب کے لوگ اپنے اپنے تیوہار کو مناتے ہیں۔ ہندوستان کو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہاں سبھی مذاہب کا احترام ہوتا ہے اور اگر یہی پیغام ساری دنیا میں پیش کیا جائے تو یقیناً سب جگہ سے فتنہ اور فساد کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز