عراقی اسکالر اور رسائل نور کے مترجم احسان قاسم الصالحی کا جے این یوکے شعبہ عربی کا دورہ

Feb 19, 2017 08:28 PM IST | Updated on: Feb 19, 2017 08:29 PM IST

نئی ،دہلی : ترکی کے ایک علمی وفدنے 18 فروری بروز سنیچر کو عربی سینٹر جے، این، یو کا دورہ کیا ،اس کے قابل ذکر ارکان میںمشہور عراقی اسکالر اور رسائل نور کے مترجم احسان قاسم الصالحی اور استنبول فاونڈیشن کے سکریٹری جناب حکن گلزارشامل تھے۔اس موقع پر شعبہ عربی نے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا ۔ڈاکٹر عبید الرحمن طیب نے مہمانوں کاپرتپاک خیر مقدم کیا۔ انہوں نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ یہ ہمارے لئے ایک نادر موقع ہے کہ عرب اور ترکی دنیا کے ایک عظیم اسکالر ہمارے درمیان تشریف رکھتے ہیں۔آپ نے کہا کہ جناب احسان الصالحی صاحب نہ صرف ایک استاذ ہیں بلکہ آپ ایک مقتدر مترجم بھی ہیں اور آپ نے پوری دنیا بالخصوص عالم عرب کو علامہ بدیع الزماں سعید النورسی کی تحریروں سے متعارف کرانے کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے جوانتہائی قابل ستائش ہے ۔ سابق چیر پرسن پروفیسر مجیب الرحمن صاحب نے قاسم الصالحی کا تعارف پیش کیا انہوں نے کہا کہ و ہ عراقی الاصل ہیں لیکن ترکی میں تقریبا 25 سال سے مقیم ہیں۔ عرب دنیا پر ان کا بہت بڑا احسان ہے۔ پہلی دفعہ انہوں نے علامہ سعید نورسی کو عرب دنیا سے متعارف کرایا اور علامہ کی ترکی میں ہزاروں صفحات پر مشتمل تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا۔

جناب احسان قاسم الصالحی نے رسائل نور کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بندہ عزم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے اسباب مہیا کردیتا ہے۔ اس ضمن میں رسائل نور کے ترجمہ کے تعلق سے اپنا واقعہ بیان کیا۔ بتایا کہ ایک دفعہ طلبہ کے ایک گروپ سے ان کی ملاقات ہوئی جو عربی سے ناواقف تھے اور قرآن وحدیث نہیں پڑھ سکتے تھے لیکن وہ ایمان کے معاملہ میں اعلی مقام پر فائز تھے۔ وہ بہت حیران ہوئے اور جب انہوں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ طلبہ رسائل نور کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جناب الصالحی نے کہا کہ پھر میں رسائل نور کی طرف متوجہ ہوا،اس کا بار بار مطالعہ کیا اور بہت متاثر ہوا، جوبھی مرے پاس آتا میں اس کو رسائل نور پڑھ کے سناتا۔چنانچہ لوگوں نے مجھ سے بصد اصرار ان رسائل کو عربی میں ترجمہ کرنے کے لئے کہا۔ ابتدا میں میں اس کی ہمت نہ کرسکاکیونکہ میں بایولوجی کا استاذ تھا اور ترجمہ نگاری کے اصولوں سے ناواقف تھا۔ لیکن جب اصراربڑھتا ہی گیا تو میں نے ہمت کی اور اللہ تعالی نے اپنی خصوصی عنایت سے اس کے لئے اسباب مہیاکردئے جس کا ہمیں وہم وگمان بھی نہ تھا۔ رضاکارانہ طور پر دو غیر ملکی اسکالروں نے میری نحوی وبلاغی غلطیوں کی اصلاح کا ذمہ لیا اور ایک نیک دل خاتون نے اس کی کتابت کا کام خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیا پھر ان گنت عورتوں نے اس کا م میں حصہ لیا اور اس کے نسخے تیار کیے ۔اس کے بعد یہ عربی ترجمہ مختلف ممالک سے شائع ہوا اور اس کی بہت پذیرائی ہوئی ۔

عراقی اسکالر اور رسائل نور کے مترجم احسان قاسم الصالحی کا جے این یوکے شعبہ عربی کا دورہ

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ تفسیر وحدیث کی بڑی بڑی کتابیں موجود ہیں پھر کوئی رسائل نور کا مطالعہ کیوں کرے؟ انہوں نے کہا کہ امہات الکتب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن رسائل نور کی اپنی کچھ خصوصیات ہیں۔ اس کی تحریر یںدل پراثر انداز ہونے والی ہیں اور اس کا انداز بہت ہی نرالا ہے۔ علامہ سعید نورسی نے عقلی ومنطقی طور سے چیزوں کواس طرح پیش کیا ہے کہ وہ لوگوںکے دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے ۔

ڈاکٹر طیب نے پوچھا کہ اس وقت ترکی میں عربی زبان اور اسلامی علوم کا کیا حال ہے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ قرآن کا پڑھنا ،عربی پڑھنا، عربی خط میں لکھنا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ عربی میں اذان پر پابندی عائد کردی گئی تھی، قرآن کے نسخے مشکل سے لوگوں کو ملتے تھے ،حجاب پر پابندی لگادی گئی تھی لیکن آج اللہ کے فضل سے صورت حال بالکل بدل رہی ہے۔ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں ،عربی زبان سیکھ رہے ہیں اور عوتوں کو حجاب پہننے کی پوری آزادی ہے۔

ان کے علاوہ بھی سامعین نے بہت سارے سوالات پوچھے جن کے احسان قاسم الصالحی صاحب نے بہت اچھے انداز میں جواب دیے۔ چیر پرسن پروفیسر رضوان الرحمن صاحب نے مہمانان گرامی، اساتذہ ،طلبہ اور سبھی حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عبید الرحمن طیب صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ اس موقع پر اساتذہ، اسکالرز اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز