کشمیر میں عید الفطر کے سلسلے میں بازاروں میں لوگوں کا اژدھام

Jun 25, 2017 01:49 PM IST | Updated on: Jun 25, 2017 01:49 PM IST

سری نگر: عید الفطر کے سلسلے میں وادی کشمیر بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تمام بازاروں میں اتوار کو گاہکوں کی ایک غیرمعمولی بھیڑ امڈ آئی جن کو بیکری دکانوں پر مختلف بیکری و مٹھائی مصنوعات، مٹن کی دکانوں پر گوشت اور دودھ کی دکانوں پر دودھ کے مصنوعات بشمول پنیر کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ کرایانہ ، پھل، سبزی اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں پر بھی لوگوں کو بڑی تعداد میں خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ بیشتر مٹن، چکن اور دودھ دہی کی دکانوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔

ادھر سیول لائنز میں ہر اتوار کو لگنے والے مشہور سنڈے مارکیٹ میں اتوار کی صبح سے ہی گاہکوں کا تانتا بندھا رہا۔ سستی خریداری کے لئے مشہور اس مارکیٹ میں آج سینکڑوں کی تعداد میں تاجروں نے ریڈیو کشمیر سے لیکر نمائش گاہ تک اپنا مال سجا رکھا تھا۔ اس مارکیٹ میں لوگوں کو مختلف گھریلو استعمال کی چیزیں خریدنے میں مصروف دیکھا گیا۔ اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

کشمیر میں عید الفطر کے سلسلے میں بازاروں میں لوگوں کا اژدھام

انہوں نے بتایا کہ مٹن، چکن ، سبزی اور بیکری فروش گاہکوں سے اپنی مرضی کی قیمتیں وصول رہے ہیں۔گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالفطر کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جو چار برس قبل 30 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔ گاہکوں نے بتایا کہ مٹن اور چکن فروشوں نے ماہ صیام شروع ہوتے ہی اپنی چھریاں تیز کردی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو تین ہفتوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ گاہکوں کی شکایت ہے کہ بازاروں میں اشیاء کی قیمتوں کی چیکنگ میں انتظامیہ کی غفلت ہی اصل میں دکانداروں کی من مانی کی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دکاندار انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ ریٹوں کو بالائے طارق رکھ رہے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران وادی میں مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے کروڑوں روپے کی نقدی نکالی گئی۔ سب سے زیادہ رش شہر کے بیکری اور مٹھائی کی دکانوں میں دیکھا گیا اور رپورٹوں کے مطابق اہلیان وادی نے گذشتہ چند دنوں کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی بیکری خریدی۔ سری نگر کے تمام بازاروں بشمول گونی کھن، جامع مسجد، ریگل چوک اور زینہ کدل میں گاہکوں کا بھاری رش دیکھا گیا جو اشیاء ضروریہ کے علاوہ ملبوسات کی خریداری میں مصروف دیکھے گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز