لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے دوران دلت حامی تنظیموں کے 13 لوگ حراست میں

Jul 03, 2017 08:45 PM IST | Updated on: Jul 03, 2017 08:45 PM IST

لکھنؤ۔ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو صابن دینے گجرات سےآرہے دلتوں کو جھانسی میں ٹرین س اتارے جانے کی مخالفت میں آج نقض امن کے اندیشے کے پیش نظر پولیس نے 13لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ سہارن پورکے پر تشدد واقعات کے دوران دلتوں پر مظالم کے سلسلے میں دلت حامی تنظیموں کی طرف سے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جسے انتظامیہ نے امن میں خلل پیدا ہونے کے خدشےکی وجہ سے منسوخ کرادیا۔ انتظامیہ نے دلت حامی تنظیموں کو پریس کلب خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس درمیان ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ایس آر دارا پوری اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر رمیش چندر دکشت نے کہا کہ کانفرنس کرنےسے نہیں روکا جاسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 50 لوگ گجرات سے وزیراعلی کو 125کلو کا صابن دینے آرہے تھے جنہیں کل شام جھانسی میں پولیس نے حراست میں لے لیا جو قابل مذمت ہے۔ دلت حامی تنظیموں کو بضد دیکھ کر پولیس نے ان سے کہا کہ ان کا ایجنڈا صرف بات چیت کرنا نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ دارالحکومت کے چوک علاقے میں چھپ کر بیٹھے تھے جنہیں پولیس نے روک لیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس چندر ترپاٹھی نے بتایا کہ یہ لوگ پریس کلب میں بات چیت کے بہانے جمع ہوکر وزیراعلی کی رہائش گاہ کی سمت کوچ کرنے والے تھے،جسے وقت پر روک لیا گیا۔

لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے دوران دلت حامی تنظیموں کے 13 لوگ حراست میں

تصویر: این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام

دلت حامی تنظیموں کے ذریعہ پریس کلب خالی نہ کرنے پر پولیس نے 13 لوگوں کو نقض امن کے پیش نظر گرفتار کرکے پولیس لائن بھیج دیا۔ گرفتار لوگوں میں خاص طورپر ایس آر داراپوری،رمیش چندر دکشت،آشیش اوستھی اور پی سی کریل شامل تھے۔گرفتاری کی مخالفت میں تنظیم کے لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مسٹر دکشت نے دلت حامی تنظیموں کی جھانسی میں ہوئی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کا دلت مخالف رویہ منظور نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز