الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوال اٹھانے والوں کو الیکشن کمیشن نے دیا کھلا چیلنج

Apr 13, 2017 08:16 AM IST | Updated on: Apr 13, 2017 08:16 AM IST

نئي دہلی۔  حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں چھیڑ چھاڑ کے مبینہ واقعات پر تنقیدوں کے نشانے پر آئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں، تکنیکی ماہرین اور سائنسدانوں کو مئی کے پہلے ہفتے میں مدعو کر کے انہيں ای وی ایم میں ہیکنگ یا چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرکے دکھانے کو کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مئی کے پہلے ہفتے میں ای وی ایم پر ہونے والی میٹنگ میں ہیکروں کو بھی الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر میں طلب کیا جاسکتا ہے، جنہيں ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرنے کا چیلنج دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس، بہوجن سماج پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ کچھ مخصوص علاقوں میں ایک مخصوص پارٹی کے حق میں ووٹنگ مشینوں کی پروگرامنگ کی گئي ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ مسٹر اروند کیجریوال نے ، جو کہ خود آئی آئی ٹی گریجویٹ ہيں، کہا ہے کہ اگر انہيں 72 گھنٹے کے لئے ای وی ایم دے دی جائے تو وہ ثابت کردیں گے کہ کہاں اور کس طرح مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے۔ دریں اثناء، کانگریس کی قیادت میں 13 پارٹیوں نے کل صدر جمہوریہ اور الیکشن کمیشن سےملاقات کرکے انتخابات کے لئے پرانے بیلٹ پیپر کے نظام کو اپنانے کی درخواست کی ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوال اٹھانے والوں کو الیکشن کمیشن نے دیا کھلا چیلنج

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز