الیکشن کمیشن ایک خودمختار دستوری ادارہ ہے، اس پر دباؤ بنانا جمہوریت کیلئے خطرہ: ڈاکٹر منظورعالم

Oct 13, 2017 06:59 PM IST | Updated on: Oct 14, 2017 09:33 AM IST

نئی دہلی۔ الیکشن کمیشن دستوری طور پر ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے ،صاف شفاف الیکشن کرانا اور عوام کا اعتماد بحال رکھنا اس کی سب سے اہم ذمہ داری ہے ، ہندوستانی جمہوریت کے نظام اور اس کی بقا کا دارومدار اسی ادارے پر ہے ،اس ادارے پر اگر کسی طرح کا کوئی حکومتی دباؤ بنایاجاتا ہے یا عوام کو کسی طرح کا کوئی شک ہوتاہے تو وہ انتہائی افسوسناک اور ہندوستانی جمہوریت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے کیا ۔ یہاں جاری ایک پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور گجرات کے اسمبلی انتخابات کا وقت قریب قریب برابر ہے ۔ ہماچل کا نومبر میں ہورہا ہے اور گجرات کا دسمبر میں، لیکن الیکشن کمیشن نے صرف ہماچل پردیش کی تاریخ کا اعلان کیا ہے جبکہ گجرات کا نہیں کیا ہے حالاں کہ دونوں کا اعلان ایک ساتھ ہوناتھا۔

،انہوں نے کہا کہ ایسالگتا ہے کہ الیکشن کمیشن پر دباؤ بنا کر گجرات اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ایک ساتھ کرنے سے روکیا گیا ہے اور اس کی وجہ ہے یہ ہے کہ 22 اکتوبر کو وزیر اعظم مودی صاحب گجرات میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں،اگر اس سے پہلے تاریخ کا اعلان کردیاجاتا ہے تو بہت ساری اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوجائیں گی جس کی بنیاد پر وہ ہمیشہ کی طرح عوام کو جھوٹے خواب نہیں دکھا پائیں گے اور نہ ہی وعدوں کا پٹارا کھول پائیں گے اس لئے تاریخ کے اعلان کئے جانے کو روک دیا گیا ہے تاکہ وہ ہمیشہ کی گجرات کو ایک مرتبہ پھر جملوں کی سوغات دے سکیں۔

الیکشن کمیشن ایک خودمختار دستوری ادارہ ہے، اس پر دباؤ بنانا جمہوریت کیلئے خطرہ: ڈاکٹر منظورعالم

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم : فائل فوٹو۔

ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اسمبلی اور عام انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ کرائے جائیں ایسے میں تاریخ کا اعلان بھی ایک ساتھ نہیں کرنے دیا جارہا ہے ،انہوں نے کہا کہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ جب متعدد ریاستوں کا انتخاب قریبی تاریخ میں ہوتا ہے تو سبھی کا اعلان الیکشن کمیشن ایک ساتھ کرتاہے ،لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہماچل پردیش اور گجرات میں انتخابات نومبر اور دسمبر میں منعقد ہورہے ہیں لیکن ایک ریاست کی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دوسری کا نہیں کیا گیا ہے جو افسوسناک ہے اور عوام کو یہ تاثر مل رہاہے کہ الیکشن کمیشن جیسے خود مختار اور آزاد دستوری ادارہ پر بھی حکومت کی بالادستی قائم ہے اور اسے آزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیا جارہاہے ۔

انہوں نے اس کیلئے الیکشن کمشنر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ وہ اپنے عہدہ کے ساتھ انصاف کرنے اور ملک کے جمہوری ڈھانچہ کے برقراررکھنے کے بجائے حکومت وقت کے دباؤ میں کام کررہے ہیں جو نہیں ہوناچاہیئے اورایک آزاد دستوری ادارے کا حکومت کے دباؤ میں آجانا سنگین خطرے کی علامت ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز