جدید ترین ٹیکنالوجی کی وکالت کے باوجود آن لائن ووٹنگ سسٹم کے حق میں نہیں الیکشن کمیشن

May 21, 2017 12:27 PM IST | Updated on: May 21, 2017 12:27 PM IST

نئی دہلی: انتخابی کےعمل کو زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بنانے کےلئےوسیع اصلاحی اقدامات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی وکالت کرنے کے باوجود الیکشن کمیشن آن لائن ووٹنگ کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ ای وی ایم مشینوں کی معتبریت ثابت کرنے کےلئے کل سائنس سینٹر میں کمیشن کی جانب سے منعقد پروگرام میں چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے نامہ نگاروں کے ایک سوال پر کہا کہ آن لائن ووٹنگ نظام پر فی الحال کوئی غور نہیں کیا جارہاہے کیونکہ یہ عملی نہیں ہوگا۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں گڑبڑی کے دعووں کی پرزور تردید کرنے والے مسٹر زیدی نے آن لائن ووٹنگ میں ہیک ہونے کے خطروں کا خدشہ ظاہر کیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ ای ووٹنگ نظام کے بارے میں کچھ سال پہلے الیکشن کمیشن میں غور کیا گیا تھا اور اس بارے میں وسیع مطالعہ کےلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت قانون اور سپریم کورٹ کو سونپ چکی ہے۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کی وکالت کے باوجود آن لائن ووٹنگ سسٹم کے حق میں نہیں الیکشن کمیشن

حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ ای ووٹنگ نظام ملک میں اب تک کہیں شروع نہیں کیا گیا ہو۔گجرات کے الیکشن کمیشن نے سال 2010میں ملک میں پہلی بار آن لائن ووٹنگ کی اجازت دی تھی۔2015میں گجرات کے میونسیپل الیکشن میں آٹھ کارپوریشنوں میں رائے دہندگان کےلئے ای ووٹنگ نظام کی سہولت دی گئی تھی لیکن یہ زیادہ کارگرثابت نہیں ہواکیونکہ جن 20 ہزار ووٹروں نے اس کے لئے رجسٹریشن کرایا تھا ان میں سے محض 1310 ووٹر ہی رجسٹریشن کےلئے ضروری کاغذات جمع کراسکے تھے۔ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت شہری اور دیہی مقامی اداروں کے انتخابات کرانے کا حق ریاستی حکومت کی الیکشن کمیشنوں کو دیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز