عام بجٹ پیشی کے سلسلے میں اپوزیشن کے اعتراض پر کمیشن نے حکومت سے جواب طلب کیا

Jan 07, 2017 03:55 PM IST | Updated on: Jan 07, 2017 03:55 PM IST

نئی دہلی۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد 18-2017 کے عام بجٹ کو الیکشن کے بعد پیش کئے جانے کے اپوزیشن کے مطالبے پر الیکشن کمیشن نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر بجٹ کی تاریخ آگے بڑھانے پر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے چار فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان اتر پردیش، پنجاب، گوا، اتراکھنڈ اور منی پور میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مودی حکومت نے اس سال عام بجٹ فروری کے آخری ہفتے کے بجائے یکم فروری کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ حکومت بجٹ میں ایسےعوامی مقبولیت کے اعلانات کر سکتی ہے جن کا ووٹروں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ عام بجٹ کسی خاص ریاست کے لئے نہیں بنایا جاتا ہے۔

عام بجٹ پیشی کے سلسلے میں اپوزیشن کے اعتراض پر کمیشن نے حکومت سے جواب طلب کیا

file photo

الیکشن کمیشن نے کابینہ سکریٹری پردیپ سنہا کو بھیجےگئے خط میں 10 جنوری تک جواب دینے کے لئے کہا ہے۔ بدھ کو الیکشن کے اعلان کے وقت چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تھا۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے جمعرات کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ریاستی انتخابات کے پیش نظر عام بجٹ کو قبل از وقت پیش کرنے پر روک لگائی جائے۔ الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا تھا کہ کمیشن نے ہماری بات سنی ہے اور اس پرغور و خوض کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ کابینہ سکریٹری کی رائے جاننے کے بعد الیکشن کمیشن اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت کے قانونی کام کاج میں دخل نہیں دے سکتا۔ وہ صرف حکومت کو اپنی بات کے لئے رضامند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ 2014 میں بھی بجٹ عام انتخابات سے پہلے پیش کیا گیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا کہنا ہے کہ ہر سال کوئی نہ کوئی الیکشن ہوتا رہتا ہے اس لئے بجٹ کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز