الیکشن کمیشن خرید رہا نئے ای وی ایم، ان سے چھیڑ چھاڑ ہوگی ناممکن

Apr 03, 2017 11:06 AM IST | Updated on: Apr 03, 2017 11:06 AM IST

نئی دہلی۔ حال ہی میں پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والی پارٹیوں نے ای وی ایم کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ الزام تھا کہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن ان شکایات سے نمٹنے کے لئے ایسی ای وی ایم خریدنے والا ہے جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایسی ای وی ایم ایم 3 ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی۔

کیا ہے ایم -3 ٹیکنالوجی

الیکشن کمیشن خرید رہا نئے ای وی ایم، ان سے چھیڑ چھاڑ ہوگی ناممکن

دراصل، ایم -3 ٹیکنالوجی والے ای وی ایم میں اپنا ویریفکیشن سسٹم ہو گا۔ اس سسٹم کے ذریعے پہلے سے طے كسی دو فریقوں کے علاوہ کوئی بھی ان میں تبدیلی کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ پکڑا جائے گا۔ ایم -3 قسم کی ای وی ایم مشینوں میں خود کا ' ازخود تشخیصی سسٹم' لگا ہوگا۔ یہ مشینیں آپسی ویریفکیشن کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط رہیں گی۔ صرف ایک سیلف ویریفکیشن ای وی ایم سے ہی علاقے کے باقی ای وی ایم سے رابطہ جوڑا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ رابطہ تبھی ممکن ہو گا جب وہ ای وی ایم جوہری توانائی پی ایس یو ای سی آئی اہل یا حفاظت کے علاقے پی ایس بی ای ایل کے ذریعہ بنا ہو گا۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز