لکھنؤ میں آخری سانسیں لے رہا ہے زردوزی اور آری کا فن ، کاریگر رکشہ چلانے پر مجبور

Apr 21, 2017 09:48 PM IST | Updated on: Apr 21, 2017 09:48 PM IST

لکھنؤ ( طارق قمر) لکھنؤ کا قدیم اورتاریخی فن زردوزی، آری اورچکن کاری برے دور سے گزر رہاہے ۔ ہزاروں فنکار بے روزگار ہوکر رکشہ چلانے اور مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔ حکومتوں کے دعوے اور وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا جب لکھنؤ میں زردوزی اورآری کے کاریگروں ، دستکاروں اور فنکاروں کی چاندی تھی ۔ اسی فن کے ذریعہ زندگی کی ضرورتیں بھی پوری ہوجاتی تھیں اوریہی ہنرآسائشیں بھی مہیا کراتی تھیں ، لیکن اب نہ فن کے زندہ بچنے کی امیدہے اور نہ ہی فنکاروں کے ہزاروں ہاتھوں میں کام ہیں۔ اس فن پر جتنا برا اثر اب اپڑ اہے ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔

ایک وقت تھا جب لکھنو کے پرانے علاقوں میں ہر گلی کوچے اور ہرمحلے میں زردوزی ، چکن کاری اور آری کے کاریگرمل جاتے تھے ۔ اب یہ کام مفتی گنج ، مولوی گنج ، تحسین گنج ، نخاس بزاجا اور درگاہ جیسے علاقوں تک ہی سمٹ کر رہ گیا ہے اوران علاقوں میں بھی زیادہ تر اڈے بند ہوچکے ہیں ۔

لکھنؤ میں آخری سانسیں لے رہا ہے زردوزی اور آری کا فن ، کاریگر رکشہ چلانے پر مجبور

فن اور فنکاروں کی زندگی پر گہری نظر رکھنے والے بھی مایوس نظر آتے ہیں۔ ان دستکاروں کی مزدوری اینٹ پتھر ڈھونے والے یومیہ مزدوروں سے بھی کم اور بہت کم ہے۔ ایک دن میں مسلسل آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد سو سے ڈیڑھ سو روپے کما نے والے ہاتھ اب اس نفری سے بھی محروم ہیں ۔ ایسے حالات میں امیدیں کب تک زندہ رہ سکتی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز