قیادت کے بغیر مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کا خاتمہ ناممکن: جسٹس سہیل اعجاز صدیقی

مرادآباد۔ اگر مسلمانوں کو تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کو دور کرنا ہے تو اپنی قیادت ان ہاتھوں میں سپرد کرنی ہوگی جو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ ہوں بلکہ ان میں قیادت اور مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت بھی ہو۔

Jan 21, 2017 08:42 PM IST | Updated on: Jan 21, 2017 08:43 PM IST

مرادآباد۔  اگر مسلمانوں کو تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کو دور کرنا ہے تو اپنی قیادت ان ہاتھوں میں سپرد کرنی ہوگی جو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ ہوں بلکہ ان میں قیادت اور مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت بھی ہو۔ یہ بات جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے آج یہاں ’اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی ترقی تعلیم کے ذریعہ ‘کے موضوع پرمنعقدہ ایک سیمنار سے خطا ب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ قیادت صرف تقریروں سے نہیں ابھرتی ہے بلکہ تحریکوں سے پیدا ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ان تحریکوں سے جو مسلسل جاری رہتی ہیں اور مسلمانوں کو اپنی ترقی کے لئے جمہوری تحریک کا سہارالینا ہوگا۔ کیوں کہ بغیر جدوجہد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مے فئیرکالج میں فیڈریش آف سوشل جسٹس کے تحت منعقدہ پروگرام میں انہوں نے مسلمانوں کو منفی ردعمل سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے منفی ردعمل سے آپ کے مخالفین میں صف بندی شروع ہوتی ہے اور آپ کے مسلسل منفی ردعمل سے اس کو تقویت ملتی ہے لہذا مسلمانوں کو بہت چیزوں کو نظر انداز کرکے اس سے بچنا چاہئے۔

نیشنل کمیشن فور مانیٹری ایجوکیشن آف انڈیا کے سابق چیرمین مسٹر صدیقی نے اترپردیش اسمبلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع دل سے نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کا وقت ہے اور مسلما نوں کے ووٹ کو تقسیم کرنے کے لئے بہت سے سیاسی بازی گر میدان میں ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ان کا مقصد آپ کے ووٹ کو بے وقعت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات یاد رکھئے جب آپ کے ووٹ کی اہمیت ختم ہوجائے گی تو آپ کی  شناخت بھی ختم ہوجائے گی اوراسی ساتھ آپ کی ’شدھی کرن‘ شروع ہوجائے گا۔ علمی پسماندگی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سولہویں صدی کے بعد مسلما نوں میں تعلیم سے بیزاری پیدا ہونے لگی اور مذہب کو علم سے بیزار بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قوم پر زوال آجاتا ہے جن میں ادارہ چلانے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

قیادت کے بغیر مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کا خاتمہ ناممکن: جسٹس سہیل اعجاز صدیقی

ہندوستانی مسلمان: فائل فوٹو

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر آفتاب عالم نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاست کے میدان میں قدم جمانے اور اثر چھوڑنے کے لئے تعلیم ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا نسخہ تجویز ہوچکا ہے ضرورت اس بات کی ہے اسے دور کرنے کے لئے تدبیر کیا جائے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خطرات کے بادل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارہ کو برباد کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ علی گڑھ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ۔ انہوں نے سیاست کے میدان میں مسلمانوں کی موجودگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ادارہ کی سیاسی سرپرستی حاصل ہوجائے تو اس کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا۔ اس پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شکیل احمد قدوائی نے کہا کہ سرسید احمد کا یونیورسٹی قائم کرنے کا مقصد محض یہ نہیں تھا کہ یہاں سے پڑھ کر نکلیں گے اور روزگار سے لگ جائیں گے بلکہ اس کے قیام کے پس پشت قیادت پیدا کرنا تھا۔ اس لئے علی گڑھ والوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ قیادت کی خلا کو پر کریں اور مسلمانوں کو بہترین قیادت فراہم کریں۔ پروگرام کے اخیر میں انہوں نے قرارداد پڑھ کر سنایا جسے لوگوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیا ت کے فیکلٹی کے ڈین پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہا کہ دگرگوں حالات سے مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ملک میں جمہوریت باقی اور عدلیہ آزاد ہے اس وقت تک مسلمانوں کو انصاف ملتا رہے گا۔ انہوں نے مسلمانوں سے جدید تعلیم کے حصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید تعلیم کے ساتھ اپنی تہذیب، ثقافت کو نہیں اپنائیں گے اس وقت تک آپ اپنے آپ کو باقی نہیں رکھ پائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز