گورکھپور سانحہ : بچوں کیلئے فرشتہ ثابت ہونے والے ڈاکٹر کفیل احمد کوعہدہ سے ہٹایا گیا

Aug 13, 2017 06:27 PM IST | Updated on: Aug 13, 2017 06:33 PM IST

گورکھپور : گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بچوں کی موت کے معاملہ میں اتوار کو وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر جے پی نڈا کے دورے کے فورا بعد انسیفلائٹس وارڈ کے انچارج ڈاکٹر کفیل کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر بھوپندر شرما کو نیا انچارج بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کفیل خان پر پرائیویٹ پریکٹس کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر کفیل دو سال پہلے ہی کنٹریکٹ پر تعینات ہوئے تھے۔ 6 ماہ پہلے ہی وہ اسسٹنٹ پروفیسر بنے تھے، جس کے بعد انہیں انچارج بنایا گیا تھا۔

تعجب کی بات یہ وہی ڈاکٹر کفیل احمد  ہیں ، جب جمعرات کی رات کو آکسیجن کی کمی سے بچے تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے ، تو انہوں اپنے پیسے سے بچوں کیلئے آکسیجن کا بندوبست کیا تھا۔ دراصل جمعرات کی رات تقریبا دو بجے انہیں اطلاع ملی کہ اسپتال میں آکسیجن کی کمی ہو گئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر کفیل سمجھ گئے کہ صورت حال کتنی خوفناک ہونے والی ہے۔

گورکھپور سانحہ : بچوں کیلئے فرشتہ ثابت ہونے والے ڈاکٹر کفیل احمد کوعہدہ سے ہٹایا گیا

آنا فانا میں وہ اپنے دوست ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور آکسیجن کے تین سلنڈر اپنی گاڑی میں لے کر جمعہ کی رات تین بجے براہ راست بی آر ڈی اسپتال پہنچے۔ تین سلنڈر سے امراض اطفال سیکشن میں تقریبا 15 منٹ آکسیجن کی فراہمی ہو سکی۔ رات بھر کسی طرح سے کام چل پایا، لیکن صبح سات بجے آکسیجن ختم ہوتے ہی ایک بار پھر صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ ڈاکٹر کفیل نے شہر کے گیس سپلائر سے فون پر بات کی۔ بڑے افسران کو بھی فون لگایا ، لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔

ڈاکٹر کفیل احمد ایک مرتبہ پھر اپنے ڈاکٹر دوستوں کے پاس مدد کے لئے پہنچے اور تقریبا ایک درجن آکسیجن سلنڈر کا بندوبست کیا۔ اس درمیان انہوں نے شہر کے تقریبا 6 آکسیجن سپلائر کو فون لگایا، سب نے کیش ادائیگی کی بات کہی، جس کے بعد انہوں نے تاخیر کئے بغیر اپنے ملازم کو اپنا اے ٹی ایم کارڈ دیا اور پیسے نکال کر آکسیجن سلنڈر لانے کو کہا۔اس دوران ڈاکٹر کفیل نے ایمبو پمپ سے بھی بچوں کی زندگی بچانے کی کوشش کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز