Live Results Assembly Elections 2018

عالم اسلام کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت: رجب طیب اردوغان کا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خطاب

نئی دہلی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت کا تقٖاضہ ہے کہ مسلم ممالک آپسی انتشار کو فراموش کرکے اتحاد کے محاذ پر یکجا ہوں۔

May 01, 2017 08:42 PM IST | Updated on: May 01, 2017 08:43 PM IST

نئی دہلی۔  ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت کا تقٖاضہ ہے کہ مسلم ممالک آپسی انتشار کو فراموش کرکے اتحاد کے محاذ پر یکجا ہوں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ڈاکٹر آف لیٹرز کی اعزازی ڈگری چانسلر لیفٹننٹ جنرل ذکی اور پروفیسر طلعت احمد کے ہاتھوں حاصل کرنے کے بعد کہی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک متحد ہوجائیں تو نہ صرف ان کے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے بلکہ ان کو آگے بڑھنے کا بھی موقع ملے گا۔ انہوں نے خلافت تحریک کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ خلافت کے خاتمہ کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں نے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں بھرپور آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے بابائے قوم مہما تماگاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک ان کی قیادت میں چلائی گئی تھی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بھی خلافت تحریک سے گہرا رشتہ رہا ہے کیوں کہ بانیان جامعہ کا تعلق خلافت تحریک سے تھا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کو خلافت تحریک کی دین قرار دیا۔

انہوں نے صومالیہ کے معاملے میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ۔ اسی کے ساتھ سلامتی کونسل کی توسیع بھی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ترکی کے معاشی، سیاسی اور تہذیبی تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سلطان عبدالحمید کے زمانے سے ترکی کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ انہوں نے عالمی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے خلاف ہمیشہ معاندانہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور من گھڑت اور منفی باتوں کو دنیا کے سامنے اچھالتا رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والی بغاوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوجھ بوجھ اور بروقت کارروائی سے اس کو فرو کیا گیا۔

عالم اسلام کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت: رجب طیب اردوغان کا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خطاب

اردوغان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے ہاتھوں اعزازی ڈگری لیتے ہوے: تصویر، رائٹرز

اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے ہندوستان اور خاص کر ہندوستانی مسلمانوں کے ترکی کے لگاؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1913کی بلقان جنگ میں زخمی ترکی فوجیوں کے علاج کے لئے ڈاکٹر مختار انصاری کی قیاد ت میں(جس کے نام پر انصاری آڈیٹوریم ہے اور جہاں آپ کو اعزاز دیا جارہا ہے) ایک طبی ٹیم گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر انصاری خلافت تحریک سے وابستہ تھے اور بانیان جامعہ میں سے تھے۔ انہوں نے کہاکہ خلافت تحریک جہاں ترکی میں خلافت کی احیاء کے لئے تحریک چلا رہی تھی وہیں ہندوستان وہ ہندو مسلم اتحاد کی بھی علامت تھی۔ انہوں نے جامعہ کے ترکی سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں ترکی زبان میں گریجویشن اور ڈپلوما اور دیگر کورس کرائے جارہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ترکی یونیورسٹی کے ساتھ ہمارے کئی محاذ پر ہمارے رشتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی سے صرف دینی رشتہ ہی نہیں ہے بلکہ تہذیبی، سیاسی اور دیگر رشتے بھی ہیں۔ وائس چانسلر نے طیب اردوغان کو ایک اہم لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جدید ترکی کے معمار ہیں اور ان کی قیادت میں ترکی تمام شعبوں میں انمٹ چھاپ چھوڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترکی کا کمال ہے کہ وہ تیس لاکھ شامی پناہ گزینوں کا بار اٹھارہا ہے اور اسی کے ساتھ وہ علاقائی امن و استحکام میں کلیدی کردار ادا کرررہا ہے اور ترکی سب سے بڑا عطیہ دینے والوں ممالک میں سے ایک ہے۔

Loading...

recep in jamia

انہوں نے کہا کہ رجب طیب اردوغان عالم اسلام کے سب سے متاثر کن لیڈر ہیں اور اسی لئے جامعہ ملیہ اسلامیہ ان کی خدمت میں ڈاکٹر آف لیٹر کی اعزاز ڈگری پیش کرکے فخر محسوس کر رہی ہے۔ نظامت کے فرائض جامعہ کے ڈپٹی میڈیا کوآرڈی نیٹر پروفیسر صائمہ سعید نے انجام دئے۔ دیگر شرکاء میں پرووائس چانسلر پروفیسر شاہد اشرف، رجسٹرار اے پی صدیقی، سعوی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود الساطی ، ڈین اسٹوڈینٹ پروفیسرتسنیم مینائی، جامعہ فیکلٹی ممبران اور دیگر حضرات تھے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز