بیک فٹ پر الیکشن کمیشن: یوپی میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات اب ای وی ایم سے کرانے کو راضی

Apr 18, 2017 08:16 AM IST | Updated on: Apr 18, 2017 08:16 AM IST

لکھنؤ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر جاری تنازعہ کے درمیان اتر پردیش کے ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح طورپر کہا کہ ریاست میں مقامی بلدیاتی انتخابات میں میونسپل کارپوریشن کے میئر اور کونسلر کے انتخابات ای وی ایم ہی سے کرائے جائیں گے۔

ریاست کے چیف الیکشن کمشنر کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق ای وی ایم مدھیہ پردیش سے منگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع سے ای وی ایم منگانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے تمام انتخابات بیلٹ پیپر سے کرائے جانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان دونوں جماعتوں سمیت ملک کی 14 پارٹیوں نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی، اگرچہ کمیشن نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے امکانات سے انکار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس مشین میں گڑی بڑی کی ہی نہیں جا سکتی۔

بیک فٹ پر الیکشن کمیشن: یوپی میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات اب ای وی ایم سے کرانے کو راضی

ایس پی صدر اکھلیش یادو نے ایک دن پہلے ہی مطالبہ کیا تھا کہ اب تمام انتخابات بیلٹ پیپر سے کرائے جائیں جبکہ محترمہ مایاوتی نے ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے دن ہی 11 مارچ کو کہہ دیا تھا کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے ان کی پارٹی الیکشن میں شکست کھا گئی ۔ بی ایس پی نے 11 اپریل کوای وی ایم سے الیکشن نہیں کرانے کے مطالبہ پر ریاست گیر مظاہرہ کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ای وی ایم کے خلاف مسلسل مہم چلائے ہوئے ہیں۔ وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات جیتتی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ میونسپلٹی انتخابات کے لئے ریاستی الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کی 25 ہزار کنٹرول یونٹ اور 50 ہزار بیلٹ یونٹ کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ضرورت کے مطابق ای وی ایم مشینوں کے الاٹمنٹ کے بعد اتر پردیش مقامی بلدیاتی انتخابات2017 میں میونسپلٹی کے میئر اور کونسلر کا الیکشن ای وی ایم سے ہی کرائے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز