حج ایکٹ میں ترمیم کر کے گلوبل ٹینڈر کے ذریعہ عازمین کو انتہائی سستے سفر حج کی سہولت دینے کا مطالبہ

سفر حج کے بھاری کرائے میں نمایاں کمی لاکر سبسڈی کے بغیر ہندستانی عازمین کی بہتر خدمت کو یقینی بنانے کے لئے حج ایکٹ 2002 میں بلا تاخیر ترمیم کرکے حج کمیٹی آف انڈیا کو ایک نوڈل ایجنسی بنا دیا جائے۔

Jan 30, 2017 12:45 PM IST | Updated on: Jan 30, 2017 12:45 PM IST

نئی دہلی : سفر حج کے بھاری کرائے میں نمایاں کمی لاکر سبسڈی کے بغیر ہندستانی عازمین کی بہتر خدمت کو یقینی بنانے کے لئے حج ایکٹ 2002 میں بلا تاخیر ترمیم کرکے حج کمیٹی آف انڈیا کو ایک نوڈل ایجنسی بنا دیا جائے تاکہ وہ گلوبل ٹنڈر کے ذریعہ ہندستانی عازمین کو اپنی گاڑھی کمائی کے لاکھوں روپے بچانے میں موثر کردار ادا کر سکے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر حج مختار عباس نقوی سے یہ مطالبہ مرکزی حج کمیٹی کے سابق رکن حافظ نوشاد احمد اعظمی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج ایکٹ میں چونکہ وزارت شہری ہوابازی کو سفر حج کا نظم سونپا گیا ہے اور وہ یہ ذمہ داری ایئر انڈیا پر ڈال دیتی ہے اس لئے سری نگر کے عازم کو جہاں 2016 میں ایک لاکھ 14 ہزار روپے دینے پڑے تھے وہیں رانچی سے سفر حج کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول کیا گیا تھا۔ اسی طرح گیا سے 1.08لاکھ، اورنگ آباد 88 ہزار، بھوپال سے 85 ہزار، وارانسی سے 85 ہزار، کلکتے سے 71 ہزار روپے بطور کرایا وصول کیا گیا تھا۔ 2017 میں اس مہنگے کرائے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

حج ایکٹ میں ترمیم کر کے گلوبل ٹینڈر کے ذریعہ عازمین کو انتہائی سستے سفر حج کی سہولت دینے کا مطالبہ

Picture : Twitter

مسٹر اعظمی کے مطابق فی الحال عازمیں کوجہاں 48 ہزار روپے دینے پڑتے ہیں اور سبسڈی کی رقم ایئر انڈیا کو مل جاتی ہے وہیں گلوبل ٹنڈر کے بعد سبسڈی کے بغیر سفرحج 20 سے 30 ہزار روپے میں ممکن ہو جائے گا۔ ایک لاکھ سے سوالاکھ عازمین کو لانے لے جانے کا موقع ملتے ہی ٹنڈر کے ذریعہ بزنس پانے والی پروازیں کاروباری فائدے کے تحت اور بھی چھوٹ اور زیادہ سہولتیں بھی مہیا کراسکتی ہیں۔

مسٹر اعظمی جو عازمین حج کے مسائل حل کرنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں، کہا کہ بہرحال اس انقلابی تبدیلی کے لئے حج ایکٹ میں ترمیم ناگزیر اور امید کی جاتی ہے کہ این ڈی اے حکومت اپنی قوت ارادی کو بروئے کار لاتے ہوئے بجٹ اجلاس میں ہی ترمیمی بل پیش کرکے ہم وطن اقلیت کو نئے سال کا تحفہ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ چونکہ مشترکہ قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے اس لئے کسی بھی حلقے سے کسی مخالفت کا اندیشہ نہیں۔ البتہ اس کی وسیع تر تائید اور حمایت ہی کی جائے گی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز