نوٹ بندی پر منموہن سنگھ نے مودی حکومت کو لیا آڑے ہاتھوں ، کہا : ابھی تو اور برے دن آنے باقی ہیں

Jan 11, 2017 05:44 PM IST | Updated on: Jan 11, 2017 05:44 PM IST

نئی دہلی: سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نوٹوں کی منسوخی پر آج حکومت کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ کہا کہ ابھی تو اور برے دن آنے باقی ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے یہاں ’جن ویدنا سمیلن ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اور برے دن آنے باقی ہیں۔ہر کانگریسی مرد عورت کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ حسب تقاضہ حرکت میں آئیں اور بیداری کی واضح پکار دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو مہینوں میں حالات صرف بدسے بدتر ہوئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کے پروپگنڈے کے عین برعکس نوٹوں کی منسوخی کے برے نتائج اس طرح مرتب ہونگے کہ بے روزگاری بڑھے گی اور زراعت ، صنعت اور سروس سیکٹروں میں بڑے پیمانے پر زوال آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری شعبہ خاص طور پر غیر رسمی پیداواری شعبے میں زوال آئے گا جس کا قومی آمدنی پر تقریباً 45 فیصد اثر پڑے گا ۔اسی کے ساتھ انہوں نے ان الفاظ میں آہ بھری کہ نوٹوں کی منسوخی کا یہ فیصلہ کس قدر تباہ کن تھا۔

نوٹ بندی پر منموہن سنگھ نے مودی حکومت کو لیا آڑے ہاتھوں ، کہا : ابھی تو اور برے دن آنے باقی ہیں

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے ظاہر کردہ اندیشوں اور باتوں کی تائید کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ایک سے زیادہ ریٹنگ ایجنسیاں پیش قیاسی کرچکی ہیں کہ مجموعی گھریلو پیداوار میں کوئی 6.3 فی صد کی گراوٹ آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے اقدام سے چند ماہ قبل 7.6 فی صد کی شرح سے مجموعی گھریلو پیداوار میں فروغ کی پیش قیاسی کی گئی تھی۔

نوٹ بندی سے 1.5 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان: چدمبرم

دریں اثنا کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے آج دعو ی کیا کہ اتنے اہم فیصلے کے بارے میں کابینی وزراء کو بھی تاریکی میں رکھا گیا اور اس اقدا م سے ملک کو تقریباًڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ مسٹر چدمبرم نے وزیر اعظم پر آمرانہ طرز اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح فیصلہ لیا گیا اور نافذ کیا گیا ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک شخص نے کیا تھا۔‘

حکومت پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اس نے اپنا فیصلہ ریزرو بینک آف انڈیا پر نافذ کرنے کی کوشش کی سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ بجائے اس کے کہ ریزرو بینک آف انڈیا حکومت کو مشورہ دیتا ، حکومت نے ہی ریزرو بینک کو مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ آر بی آئی کی میٹنگ 8نومبر کو اس وقت ہوئی جب حکومت نے مرکزی بینک کو مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آر بی آئی نے بورڈ آف ڈائریکٹرس کو اتنے اہم میٹنگ کے لئے نوٹس کب دیا جس نے حکومت کی تجویز کو توثیق کی اور نوٹ بندی کو منظوری دی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوراً کسانوں اور یومیہ مزدوروں کو معاوضہ دے ۔ مسٹر چدمبرم نے کہا کہ ریزرو بینک کا وقار داو پر لگ گیا ہے اور کرنسی نوٹوں پر پابندی کے نتیجے میں جی ڈی پی میں 1.5 تا 2فیصد کی گراوٹ آئے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز