فرید آباد پٹائی معاملہ میں تازہ انکشاف، وہ گائے نہیں بھینس کا گوشت تھا

فریدآباد۔ دہلی سے ملحق فرید آباد میں مبینہ گئوركشكوں نے بیف کے شک میں جن لوگوں کی بے دردی سے پٹائی کی وہ بھینس کا گوشت لے جا رہے تھے۔

Oct 15, 2017 06:47 PM IST | Updated on: Oct 15, 2017 06:47 PM IST

فریدآباد۔ دہلی سے ملحق فرید آباد میں مبینہ گئوركشكوں نے بیف کے شک میں جن لوگوں کی بے دردی سے پٹائی کی وہ بھینس کا گوشت لے جا رہے تھے۔ یہ ویٹرنری رپورٹ میں ثابت ہوا ہے۔ ہریانہ پولیس نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا ہے۔

متاثرین میں سے ایک آزاد نے کہا تھا کہ 'اگر گائے کا گوشت نکلا تو مجھے پھانسی دے دینا اور اگر نہیں تو مجھے انصاف چاہئے۔' پولیس نے الٹا پٹنے والوں ہی کے خلاف گئوركشا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔ متاثر آٹو ڈرائیور آزاد معذور بتایا جاتا ہے۔ وہ آٹو چلا کر اپنا گھر چلاتا ہے۔

فرید آباد پٹائی معاملہ میں تازہ انکشاف، وہ گائے نہیں بھینس کا گوشت تھا

فرید آباد میں گئو رکشکوں نے پانچ لوگوں کی پٹائی کی۔

پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آٹو میں گوشت لے جا رہے لوگوں کی پٹائی کرنے والوں کے نام رام کشور (21 سال)، لكھن (24 سال) اور دلیپ (19 سال) ہیں۔

بتا دیں کہ آزاد اپنے ساتھی کی میٹ کی دکان کے لئے اپنے آٹو میں میٹ رکھ کر لے جا رہا تھا۔ اس دوران، اس کا ایک اور ساتھی آٹو میں بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ فریدآباد میں بجڑی گاؤں کے قریب پہنچے، تبھی پیچھے سے آئی ایک کار میں سوار کچھ نوجوانوں نے اس کے آٹو کو رکوا لیا اور مار پیٹ شروع کر دی۔ الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں کے سامنے بھی انہیں پیٹا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز