مودی حکومت ملک میں فرقہ پرستی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی: فاروق عبداللہ

سری نگر۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دلی میں بیٹھی سرکار ملک میں فرقہ پرستی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے۔

Nov 28, 2017 05:04 PM IST | Updated on: Nov 28, 2017 05:04 PM IST

سری نگر۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دلی میں بیٹھی سرکار ملک میں فرقہ پرستی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے جبکہ ریاستی حکومت لوگوں کو بنیادی ضروریات بہم پہنچانے میں اوندھے منہ گر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت میں اس وقت فرقہ پرستی کا جو سلسلہ جاری ہے اگر اس کا یہی حال رہا تو ملک تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ فرقہ پرستی ہندوستان کے صدیوں کے سیکولر کردارکے لئے سم قاتل ہے۔ ملک میں گذشتہ برسوں سے جو فرقہ پرستی کے حالات و واقعات رونما ہورہے ہیں اس سے مذہبی رواداری، آپسی بھائی چارہ اور مذہبی آزادی کو زک پہنچ رہا ہے‘۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں عوام سے اظہارِ رائے کا حق سلب کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداروں، کارکنوں اور عوامی وفود کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے کارگذار صدر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ کئی لیڈران موجود تھے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ اس وقت ریاست انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، جی ایس ٹی کے اطلاق سے نہ صرف ریاست اقتصادی بدحالی کا شکار ہوئی ہے بلکہ بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس قانون کے اطلاق سے کئی صنعتیں دم توڑنے کے قریب ہیں اور بڑے ادارے ملازمین کی چھٹی کررہے ہیں۔

مودی حکومت ملک میں فرقہ پرستی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی: فاروق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ : فائل فوٹو۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے جس عجلت سے جموں وکشمیر پر جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا وہ غیر سنجیدگی کی انتہا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت لوگوں کو بنیادی ضروریات بہم پہنچانے میں بھی سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔ نوکریوں،روزگار یہاں تک کی تبدیلیوں اور تقرریوں میں سیاست کارفرما ہوتی ہے، اقرباپروری اور اقربا نوازی کا سلسلہ عروج پر ہے، پڑھے لکھے مستحق بے روزگار نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارا جا رہا ہے۔ رشوت ستانی عروج پر ہے، کرپشن کا دور دورہ ہے، بجلی اور پانی کی قلت نے لوگوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ عام لوگوں کی شکایت ہے کہ جو سہولیات گذشتہ برسوں کے دوران بہ آسانی بہم رہتی تھیں ، موجودہ حکومت کے قیام کے بعد یہ سہولیات ندارد ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز