کشمیری نوجوان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پتھر پھینکتے ہیں: فاروق عبداللہ

Apr 05, 2017 09:07 PM IST | Updated on: Apr 05, 2017 09:07 PM IST

سری نگر ۔  نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پتھراؤ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رزق دینے والا اللہ پاک ہے، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی رزق دینے والوں میں سے نہیں ہیں۔ فاروق عبداللہ جو کہ سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے نیشنل کانفرنس امیدوار ہیں، نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں بٹہ وارہ سونہ وارمیں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے ضمنی انتخاب کے تحت 9 اپریل کو ووٹ ڈالے جا ئیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کے اس بیان کہ ’کشمیری نوجوانوں کو سیاحت یا دہشت گردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلینا ہوگا‘ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پتھراؤ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ٹنل کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے (وزیر اعظم مودی نے) کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو سوچنا ہوگا کہ انہیں سیاحت چاہیے یا دہشت گردی۔

میں مودی صاحب کو اس اسٹیج سے کہنا چاہتا ہوں کہ سیاحت ہماری زندگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ مگر وہ جو پتھر پھینکنے والا (نوجوان) ہے، اس کو سیاحت سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہ بھوکا مرنا پسند کرے گا، وہ وطن کے لئے پتھر ماررہا ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اپنی جان دے رہا ہے تو سیاحت کے لئے جان نہیں دے رہا ہے، وہ اس لئے پتھر مار رہا ہے کہ اس وطن کا فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ جو یہاں کے لوگوں کو قبول ہو‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ رزق دینے والا اللہ پاک ہے مسٹر مودی نہیں۔ انہوں نے کہا ’ اللہ رزق دینے والا ہے۔ مودی رزق دینے والوں میں سے نہیں ہے۔ یہ بات یاد رکھ لیجئے۔ جس دن وہ کسی کا رزق بند کردے گا، اگر مودی جی پورے ہندوستان کا رزق لائے گا، وہ اتار نہیں سکے گا۔

کشمیری نوجوان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پتھر پھینکتے ہیں: فاروق عبداللہ

پی ٹی آئی

میں نے بحیثیت ڈاکٹر دیکھا ہے۔ میں نے اُن مریضوں کو دیکھا ہے ، جن کو آپ جتنا بھی رزق دینا چاہو مگر اوپر والے کی مرضی نہیں ہو تو وہ رزق ہضم ہی نہیں ہوگا۔ اس لئے یاد رکھنا کہ رزاق وہ خود ہے۔ ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سب کا رزاق اوپر والا ہے‘۔ نیشنل کانفرنس صدر نے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مبینہ فرقہ واریت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی دوسرے مذاہب پر انگلی نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہا ’انہیں (دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگوں) اپنے مذاہب مبارک، اور ہمیں اپنا دین مبارک۔ ہم نے کبھی اُن کے مذہب پر انگلی نہیں اٹھائی۔ اور نہ ہم نے کبھی اُن کے مذہب کے خلاف کوئی قدم اٹھایا۔ بلکہ فاروق عبداللہ نے خود اُن کے بجھن گائے ہیں‘۔ فاروق عبداللہ نے امریکہ کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ممالک مسائل کے حل کے لئے کوششوں کا آغاز نہیں کرتے ہیں تو امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’آپ نے سنا ہوگا کہ امریکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان ہمیشہ کہتا ہے کہ نہیں جی پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ہمیں کسی ثالث کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بھی یہی کہتے تھے کہ دونوں (ہندوستان اور پاکستان ) بات چیت کرلیں گے اور مسائل کو سلجھائیں گے۔ بہت سال گذر گئے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نیشنل کانفرنس یہ چاہتی ہے کہ اگر ہندوستان اس سلسلے میں کوشش نہیں کرتا تو امریکہ کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز