انٹرنیٹ پر پابندی وادی کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف : فاروق عبداللہ

انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی کو دورِ جدید میں وادی کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف قرار دیا

Apr 26, 2017 06:52 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 06:52 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادئ کشمیر میں حکومت کی جانب سے تمام سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی لگائے جانے اور انٹرنیٹ خدمات کو بار بار منقطع کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں جہاں اس وقت مواصلات ،کاروبار ، تعلیم اور دیگر کاروباری و دفتری نظام انٹرنیٹ پر ہی انحصار کرتے ہے وہیں کشمیر کے لوگوں کو اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جارہا ہے ، جو سراسر ناانصافی اور امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی کو دورِ جدید میں وادی کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف قرار دیا ۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ وادی میں انٹرنیٹ خدمات کے منقطع رہنے سے لاکھوں صارفین مشکلات سے دوچار ہیں، کاروباری اورپیشہ وارانہ سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوگئیں ہیں،کم و بیش ہر طرح کے چھوٹے بڑے تاجر خصوصاً شعبہ سیاحت سے تعلق رکھنے والوں کی روزی روٹی پر شب خون مارا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے سیاحوں کی بکنگ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنی رہائش گاہ پر مختلف کاروباری اور تاجر انجمنوں کے نمائندوں، طلباء و طالبات کے علاوہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے وفود کے ساتھ تبادلہ خیالات کررہے تھے۔

انٹرنیٹ پر پابندی وادی کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ دورِ جدید میں انٹرنیٹ انتہائی لازمی ہے، کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہے کیونکہ آج کل لین دین انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ کے فقدان سے طالب علموں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو انہیں انٹرونیٹ سے میسر رہتی تھی۔

اس کے علاوہ نوکریوں کے فارم، کالجوں اور یونیوسٹیوں کے فارم، امتحانی فارم نیز ہر ایک کام انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہوتا ہے لیکن کشمیری نوجوان کو اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی سے ہزاروں لوگ بیرون ریاست اپنے رشتہ داروں، دوست و احباب سے رابطہ کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو وادی میں رہ کر ہی ملک کی دیگر ریاستوں اور بیرون ممالک کی کمپنیوں کے ساتھ کام کرکے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں لیکن انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد ان میں سے بیشتر نوجوان اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہزاروں افراد کے پیشہ وارنہ فرائض بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور صحافیوں کو میڈیا کے اداروں سے رابطے کرنے اور اپنی خبریں بھیجنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ بہت سارے ممالک میں مفت انٹرنیٹ کی فراہمی انسانی حقوق کی بنیادی شقوں میں شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں پیسوں کے عیوض بھی انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس بھی انٹرنیٹ پر 6ماہ کی پابندی سے کشمیر کی اقتصادیات کو دھچکا لگا حکومت کو فوری طور انٹرنیٹ سروس بحال کرکے گذشتہ سال کی ریت دہرانے سے احتراز کرنا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز