ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی کا طوفان روکنا وقت کی اہم ضرورت : فاروق عبداللہ

Apr 01, 2017 10:59 PM IST | Updated on: Apr 01, 2017 10:59 PM IST

سری نگر ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے مرکز میں ایسے فرقہ پرست حکمران تسلط ہوئے ہیں جنہوں نے 25 کروڑ ہندوستان کے مسلمانوں کی نید حرام کر دی ہے اور مسلمانوں کو ہر سطح پر ستانا شروع کر دیا ہے جو ہندوستان کی آزادی اور سالمیت کے لئے زبردست خطرے کا باعث بن جانے کا مؤجب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے امن پسند اور سیکیو لر لیڈروں پر یہ فرض بنتاہے کہ وہ ملک میں موجودہ بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کا سیلاب روک دے ۔ فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو سری نگر کے حلقہ انتخاب سونہ وار میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا ’ان فرقہ پرستوں طاقتوں کو ریاست میں قدم جمانے کی راہ ہموار کرنے میں مرحوم مفتی سعید کی دین ہے اور اب اس کی دختر اس راہ پر گامزن ہے جو ووٹ کے بدلے نوٹ کی پالیسی اپنا کر لوگوں کو گمراہ کررہی ہے ۔

ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی کا طوفان روکنا وقت کی اہم ضرورت : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

آج محبوبہ مفتی سبز پوشاک پہن کر وہ سینہ کوبی اور مگر مچھ کے آنسو نہیں بہہ رہی ہے جو اقتدار کے خاطر بہا رہی تھی جب کوئی ملیٹنٹ یا عام شہری کو ہلاک کیا جارہا تھا تو یہ سب سے پہلے وہاں پہنچ کر نقلی آنسوں بہا کرواوئیلا کر رہی تھی ۔ افسو س اس بات کا ہے کہ چاڈورہ میں ان تین معصوموں کی جانیں تلف ہونے پر انہوں کو کوئی آنسوں نہ بہایا اور نہ ان کی ڈھارس بندھائی ۔ اصل میں انہوں نے بے جے پی ، آرایس جیسے فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ناطہ جوڑا تھا اور اب کھلے عام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچا رہی ہے اور مسلمانوں کے دینی معاملات میں بھی مداخلت بے جا کر رہے ہیں جو ایک طوفان بر پا کرنے کی چنوتی دیتاہے جس کی بدترین مثال یو پی میں فرقہ پرست وزیر اعلیٰ کی تقریری سے ملتی ہے‘ ۔

انہوں نے کشمیری عوام کو خبردار کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ متحدد ہوکر اور یک زبان ہو کر ایسے طاقتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں جو ریاست کی وحدت ، انفرادیت ، شناخت ، کشمیریت ، ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ کو پارہ پارہ کرنے کے لئے تُلے ہوئے ہیں جس کی مدد وطن فروش اور ضمیر فروش لوگ کر رہے ہیں جن میں قلم دوات سرفہرست لوگ ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کو دوکھ دیا کہ بقول مرحوم مفتی محمد سعید اور اس کے ہوارئیوں نے کہا تھا کہ پی ڈی پی میں ہی وہ صلاحیت ہے جو بی جے پی کو ریاست میں قدم جمانے سے روک سکتی ہے لیکن بعد میں کشمیری عوام کو معلوم ہوا ہے یہ سب کچھ سفید جھوٹ تھا ۔یہ لوگ اقتدار میں اس لئے آئے کہ انہیں آر ایس ( بی جے پی ) نے زر کثیر فراہم کر کے اُن کو حکومت کا ساجدار بنایا اور ان کے ایجنڈے پر ( ناگپور ) پر عمل پیرا ہے ۔ یہ لوگ طاقت کے بل بوتے پرووٹروں کو دھمکیاں، ہراساں اور فرضی دھمکی آمیز چھٹیاں تقسیم کر کے ووٹ دینے بعض رکھے گے لیکن مجھے امید ہے کہ رائے دہندگان حضرات کشمیریت کو اور کشمیری لوگوں کے احساسات اور مفادات کو مدنظر رکھ کر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری عوام نے ایک طویل جدوجہد کرکے عزت نفس، خدا اعتماد اور خود اعتمادی حاصل کی ہے اور موجودہ حکمران جماعت پی ڈی پی فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کا سودا کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ نیشنل کانفرنس شہدائے کشمیر کی قربانیاں کی پاسبان جماعت رہی ہے اور آئندہ بھی یہ جماعت انہیں اصولوں پر قائم و دائم رہے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز