رمضان المبارک سے قبل ہند وستان اور پاکستان جنگ بندی کا تازہ معاہدہ کریں : فاروق عبداللہ

May 14, 2017 05:18 PM IST | Updated on: May 14, 2017 05:18 PM IST

جموں : نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہند پاک سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی وفاقی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کو یقینی بنائیں۔ فاروق عبداللہ نے اتوار کو یہاں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر جاری کشیدگی تشویشناک ہے۔ اس کا حل جنگ بندی کے معاہدے میں مضمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں جب اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے تو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں سرحدوں پر کئی برسوں تک امن کی فضا برقرار رہی۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’2003 ء میں بھی سرحدوں پر اُس وقت کشیدگی تھی جب اٹل بہاری واجپائی نئی دہلی میں مرکزی حکومت کی قیادت کررہے تھے۔ لیکن انہوں نے پہل کی، وہ لاہور گئے اور پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

رمضان المبارک سے قبل ہند وستان اور پاکستان جنگ بندی کا تازہ معاہدہ کریں : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

انہوں نے پاکستان سے مذاکرات کئے اور نتیجتاً جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ‘۔ انہوں نے کہا ’میں دونوں ہندوستان اور پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ کچھ دنوں بعد رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ دونوں ممالک آپس میں مل بیٹھ کر مشاورت کرکے جنگ بندی کا معاہدہ کرلیں‘۔ نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر فاروق عبداللہ نے کہا ’میں تمام تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتا ہوں، لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ کشمیر صرف امن وامان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلے کے حل کے لئے سیاسی اقدامات کا اٹھایا جانا ضروری ہے‘۔

انہوں نے کہا ’اس سے قبل ایک پارلیمانی وفد نے کشمیر کا دورہ کیا، مذاکراتکاروں کی رپورٹ اُن کے پاس پہلے سے ہی پڑی ہے لیکن تاحال کوئی ثمر آور اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ میں نے وزیر اعظم کو بتادیا کہ انہیں کشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے پڑیں گے‘۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا ’اگر ہندوستان اپنے پڑوسی (پاکستان) کے ساتھ امن چاہتا ہے تو یہ صرف اور صرف مذاکرات سے ممکن ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہی صحیح وقت ہے کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر مذاکراتی عمل کا آغاز کریں‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز