تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ مارپیٹ پر فاروق عبداللہ شدید برہم ، قیدیوں کی وادی منتقلی کا مطالبہ

Nov 29, 2017 06:06 PM IST | Updated on: Nov 29, 2017 06:07 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کا ٹارچر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جیل حکام کے اس نازیبا، ناشائستہ اور انسانیت سوز اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے قیدیوں کی مارپیٹ اور جان سے مار دینے کی کوششوں کو انسانی حقوق کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کے ملوثین کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریاست کی وزیر اعلیٰ نے ٹیلی فون پر ہوم سکریٹری کے ساتھ کشمیری قیدیوں کے ساتھ پیش آئے اس واقعہ کو اُٹھایا ہے تاہم انہیں چاہئے کہ وہ بذات خود یا اپنے کسی سینئر وزیر کو تہاڑ جیل بھیجے تاکہ وہ کشمیری قیدیوں کی حالت زار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوپور کے ایک قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے عدالتی احکامات کی ضرورت پڑی جبکہ جیل حکام اُس کی خراب حالت دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے۔

تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ مارپیٹ پر فاروق عبداللہ شدید برہم ، قیدیوں کی وادی منتقلی کا مطالبہ

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ : فائل فوٹو۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس واقعہ کو دیکھ کر یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ کشمیری قیدیوں کو بیرونِ ریاست جیلوں میں جان کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور عقل کا تقاضہ ہے کہ کشمیری قیدیوں کو فوراً سے پیش تر وادی منتقل کیا جائے۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اطہار بدھ کو یہاں نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے ایک اجلاس کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم ہند سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الفاظی جنگ بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے چار جنگیں لڑیں لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ ماضی کی تلخیاں فراموش کرکے ایک دوسرے کے قریب آئیں اور تمام حل طلب معاملات کا بات چیت کے ذریعے حل نکالے۔

فاروق عبداللہ نے مذاکرات کار کے دوسرے دورہ کشمیر کے بارے میں کہا ’وہ آئے ہیں، اللہ کرے کہ جن سے وہ ملے، وہ انہیں سیدھے الفاظ میں صورتحال کی آگاہی دیں۔ وہ انہیں بتائیں کہ ہمارے مشکلات کیا ہیں۔ وہ سمجھ جائیں گے۔ ہم امید کریں گے کہ وہ یہاں کی حالت دیکھ کر دہلی میں ان کو بیان کریں گے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز