بی ایس ایف کیمپ پر فدائین حملہ، سبھی 3 حملہ آور ہلاک، اے ایس آئی شہید اور 5 دیگر زخمی

سری نگر ۔ جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ ہمہامہ میں بین اقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع 182 بٹالین بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کیمپ پر 4 جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروپ نے فدائین حملہ کردیا ہے۔

Oct 03, 2017 08:37 AM IST | Updated on: Oct 03, 2017 04:33 PM IST

سری نگر۔ جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ ہمہامہ میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع 182 بٹالین بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کیمپ پر منگل کی علی الصبح جنگجوؤں کی طرف سے فدائین حملہ کیا گیا جس کے بعد طرفین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی جنگجو تنظیم ’جیش محمد‘ سے وابستہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا۔ تاہم حملہ آوروں کی اندھا دھند فائرنگ سے بی ایس ایف کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہلاک جبکہ 5 دیگر سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں بی ایس ایف کے چار اور ریاستی پولیس کا ایک اہلکار شامل ہے۔ مہلوک بی ایس ایف اے ایس آئی کی شناخت بی کے یادو کے بطور کی گئی ہے۔ بی ایس ایف کیمپ کے اندر جنگجو مخالف آپریشن قریب دس گھنٹوں تک جاری رہا۔

جموں وکشمیر پولیس نے سبھی حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’تیسرے حملہ آور کو بھی ہلاک کیا گیا‘۔ بی ایس ایف نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پرایک ٹویٹ میں کہا ’دہشت گردوں نے سری نگر میں بی ایس ایف کے کیمپ پر حملہ کیا۔ صرف تین دہشت گردوں کو دیکھا گیا تھا۔ تینوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اے ایس آئی بی کے یادو بہادری کے ساتھ لڑنے کے دوران شہید ہوگئے‘۔ پولیس ذرائع نے بتایا ’جنگجوؤں نے منگل کی علی الصبح قریب 4 بجے بی ایس ایف کیمپ کے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جنگجو کو ابتدائی جوابی فائرنگ میں کیمپ کے باب الداخلے کے نذدیک جبکہ دیگر دو جنگجوؤں کو کیمپ کے اندر ہلاک کیا گیا۔ ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت بحال کردی گئی ہے۔

بی ایس ایف کیمپ پر فدائین حملہ، سبھی 3 حملہ آور ہلاک، اے ایس آئی شہید اور 5 دیگر زخمی

خبر کے مطابق، بی ایس ایف کے کیمپ کے اندر ایڈمنسٹریشن بلاک میں دو جنگجووں کے چھپے ہونے کا اندیشہ ہے۔

ائرپورٹ کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’صبح کے وقت چند گھنٹوں تک معطل رہنے کے بعد ائرپورٹ پر پروازوں کی آمد اور روانگی کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ صبح کے وقت احتیاطی اقدامات کے طور پر ائرپورٹ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا تھا جبکہ ائرپورٹ پر پروازوں کی آواجاہی معطل کردی گئی تھی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہمہامہ کی فرنڈس انکلیو میں واقع ایک ریٹائرڈ سینئر پولیس عہدیدار کی رہائش گاہ پر تعینات ایک پولیس اہلکار سٹرے بلٹ لگنے سے زخمی ہوگیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم جنگجو تنظیم جیش محمد نے اس فدائین حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

تنظیم کے ایک ترجمان نے یہاں مقامی خبررساں ایجنسیوں کو فون کرکے بتایا ہے کہ بی ایس ایف کیمپ پر حملہ گروپ سے وابستہ جنگجوؤں نے انجام دیا ہے۔ اس کالعدم جنگجو تنظیم نے وادی میں مستقبل میں مزید حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کیمپ کے اندر فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے اور سیکورٹی فورسز نے کیمپ کے احاطے اور عمارتوں کو ان پھٹے دھماکہ خیز مواد سے پاک بنانے کے لئے کامبنگ آپریشن شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کی مانیٹرنگ کے لئے سینئر سیکورٹی عہدیدار از خود وہاں موجود تھے۔ سرکاری ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بھاری مسلح جنگجوؤں کے ایک گروپ نے منگل کی علی الصبح قریب چار بجے ہمہامہ میں 182 بٹالین بی ایس ایف کیمپ میں داخل ہونے کے لئے گرینیڈ پھینکے اور بعدازاں اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

اس کے بعد حملہ آور کیمپ کے اندر داخل ہونے کے بعد احاطے میں واقع انتظامی بلڈنگ اور جے سو او میس میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بتایا ’حملہ آوروں کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں بی ایس ایف کے تین جوان زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ‘۔ ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے لئے شروع کئے گئے آپریشن میں ریاستی پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ہمہامہ اور گوگو کے رہائشیوں نے یو این آئی کو بتایا کہ منگل کی علی الصبح دھماکوں اور گولہ باری کی لرزہ خیز آوازوں سے ان کی نیند ٹوٹ گئی اور انہیں پہلے لگا کہ ائرپورٹ پر حملہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیمپ پر فدائین حملے کی وجہ سے وہ اپنے گھروں تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے احتیاطی طور پر ہمہامہ میں واقع کچھ تعلیمی اداروں کو منگل کے روز بند رکھا۔ ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ آپریشن کو سینئر پولیس عہدیدار مانیٹر کررہے تھے۔

وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے فوری جوابی کاروائی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عام شہریوں کا نقصان نہ ہو۔ وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج گنگا رام اہیر نے کہا کہ حملہ آوروں کو کیمپ میں داخل ہونے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا ’دہشت گردوں نے کیمپ کے اندر گھسنے کی جو ہمت کی ہے، اس کی انہیں قیمت چکانی پڑے گی‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کا فورسز کے کیمپوں پر حملہ کرنا ہمارے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز