سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف جنگ یا اقتدار کے لئے رسہ کشی؟

Nov 09, 2017 12:38 PM IST | Updated on: Nov 09, 2017 12:42 PM IST

نئی دہلی۔ سعودی عرب میں حال ہی میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے نام پر انسداد بدعنوانی کمیٹی کی تشکیل کی گئی ہے اور اس کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد ہی انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11 شہزادوں، 4 وزرا اور کئی سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کمیٹی کے چئیرمین ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور انہیں گرفتاری وارنٹ جاری کرنے یا سفر پر پابندی عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ گرفتار شہزادوں میں ایشیا کے وارین بفٹ کہے جانے والے شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب کی اس حالیہ بڑی کارروائی کو ماہرین اسے مملکت میں اقتدار کے لئے رسہ کشی اور متوقع بغاوت کو روکنے کی ایک کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔

قومی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی اور بالخصوص خلیجی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے اس معاملہ میں نیوز ۱۸، اردو کے ساتھ بات چیت میں اسے متوقع بغاوت کو روکنے کی ایک کوشش سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک طویل عرصہ سے یہ بات کہہ رہا ہوں اور بالخصوص عرب بہاریہ کے انقلاب کے بعد سے تو پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ پورے خلیجی ممالک کی بادشاہتیں بہت جلد دم توڑ دینے والی ہیں اور اب وہ حالات بالکل ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ملکوں کی تیل کی معیشت اب تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ اب یہ اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں۔ یوروپی ممالک ان کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ اس لئے اب وہ تمام شہزادے جو موجودہ ولی عہد کے خلاف ہیں، ان کی پالیسیوں کے خلاف ہیں، ان کی یہ مخالفت بغاوت کی صورت میں ظاہر ہو سکتی تھی، لہذا ان سب کو کنارے لگانے کے لئے ان کے خلاف یہ  بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے مزید کہا کہ موجودہ شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کی جانشینی کو مضبوط کرنے کے لئے پہلے تو محمد بن نائف کو ولی عہد سے دستبردار کیا اور اب اپنے بیٹے محمد بن سلمان کے ہاتھوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ان کے مخالفین کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ تسلیم رحمانی نے دعویٰ کیا کہ آئندہ دو تین سال کے اندر سعودی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔

سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف جنگ یا اقتدار کے لئے رسہ کشی؟

شہزادہ محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔

خیال رہے کہ محمد بن نائف سے ولی عہد کا عہدہ چھین لینے کے بعد معروف نیوز ایجنسی رائٹرز کے حوالہ سے اس وقت  نیوز ۱۸، اردو نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شاہی کنبہ کے تین قریبی افراد، چار عرب افسران اور خطے کے سفارتکاروں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ شہزادہ نائف عہدہ چھوڑنے کے حکم سے ہکا بکا رہ گئے تھے۔ رائٹرز نے سعودی سیاسی ذ رائع کے حوالہ سے لکھا تھا کہ ’’نائف کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ یہ تو تختہ پلٹ تھا، اس کے لئے وہ تیار نہیں تھے۔‘‘ ذرائع نے بتایا تھا کہ نائف کو توقع نہیں تھی کہ ان کی جگہ پارہ صفت محمد بن سلمان کو دے دی جائے گی جنہوں نے ان کے مطابق کئی انتہائی غلط پالیسی فیصلے کئے تھے جیسے کہ یمن کی لڑائی اور افسر شاہوں کو مالیاتی فائدوں میں تخفیف کرنا۔

محمد بن نایف: فائل فوٹو، رائٹرز محمد بن نایف: فائل فوٹو، رائٹرز

یہ پوچھے جانے پر کہ سعودی بادشاہت ختم ہو نے کی صورت میں مملکت سمیت امت مسلمہ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، ڈاکٹر رحمانی نے کہا کہ سعودی عرب میں بدامنی کی جو موجودہ صورت حال ہے، اس میں مزید اضافہ ہو گا، داخلی طور پر انتشار اور خلفشار بڑھے گا لیکن دنیا کے دیگر مسلمانوں پر اس کا کچھ بھی اثر نہیں پڑے گا۔

وہیں، معروف اسلامی اسکالر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام نے بدعنوانی کی بات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض اقتدار کی رسہ کشی ہے جس کا واضح مقصد اپنی کرسی کو مضبوط کرنا اور چیلنج پیش کرنے والوں کو راستہ سے ہٹا دینا ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا کہیں ایسا ہوتا ہے کہ دو تین گھنٹے کے اندر کمیٹی بنتی ہے اور پھر گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ تو پہلے سے طے شدہ تھا۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ جب بیلٹ باکس سے حکومت نہیں بنتی ہے تو بہت ساری ایسی باتیں سامنے آتی ہی ہیں۔ ہاں، اگر واقعی سعودی عرب میں  بدعنوانی کی بات آئے گی تب تو وہاں تو کوئی نہیں بچے گا۔ کوئی افسر اور کوئی وزیر نہیں بچے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس میں شاہ سلمان کا ہاتھ ہے، ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ میں اسے نہیں مانتا۔ کیونکہ شاہ سلمان اب عمر کے اس حصہ میں پہنچ گئے ہیں کہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ سب ان کے چہیتے بیٹے محمد بن سلمان کی کارستانی ہے جس نے اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے پہلے تو شہزداہ نائف کو ہٹایا اور اب دھیرے دھیرے ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جنہیں وہ اپنے لئے، اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بوڑھوں کو نظر انداز کر کے ایک نوجوان کے ہاتھ میں پورا اختیار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سارے لوگ نئے ولی عہد کو کلی طور پر تسلیم نہیں کر لیں گے تب تک یہ سب چلتا رہے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شاہ سلمان کو فون کر کے ان گرفتاریوں پر ان کی حمایت کی ہے۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ گرفتار ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال نے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کو ریپبلیکن اور امریکیوں کے لئے باعث شرم قرار دیا تھا۔ طلال کے اسی بیان کے بعد ٹرمپ نے انتخابات کے بعد انہیں دیکھ لینے کی دھمکی دی تھی اور گرفتاری کی یہ کارروائی اسی کا ایک حصہ ہے۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے داماد جے کشنر نے کچھ دن پہلے ریاض کا خفیہ دورہ بھی کیا تھا۔

گرفتار ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال: فائل فوٹو۔ گرفتار ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال: فائل فوٹو۔

دوسری طرف، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کہتے ہیں کہ بدعنوانی کا معاملہ ہر ایک سماج میں پایا جاتا ہے۔ کوئی بھی سماج اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اور اگر بدعنوانی پائی گئی ہے تو یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ اسلامی نظام ہوتے ہوئے اتنی بدعنوانی کیسے ہوئی، کہاں ہوئی کیونکہ اسے ابھی تک چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ نوید حامد نے یہ بھی کہا کہ یہ امکان بھی ہے کہ اس کارروائی کے ذریعہ اپنے مخالفین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہو۔

بہر حال، اب یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا  بدعنوانی کے خلاف ولی عہد کی یہ مہم آگے بھی جاری رہے گی یا پھر یہ کہ انہوں نے صرف اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کر کے ان کی آواز کو خاموش کرنے اور اپنے ہاتھ کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز