رام جنم بھومی - بابری مسجد مالکانہ حق کیس : 5 دسمبر سے شروع ہوگی حتمی سماعت ، سوامی کی عرضی خارج

Aug 11, 2017 03:40 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 06:10 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اجودھیا اراضی تنازعہ کیس کی حتمی سماعت آج پانچ دسمبر تک کے لئے ملتوی کر دی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختلف اپیلوں کی مشترکہ سماعت کے دوران جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر کی خصوصی بنچ نے کہا کہ پانچ دسمبر سے اس معاملے میں حتمی سماعت کی جائے گی۔ کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا کہ اس دوران سماعت ملتوی کرنے کی کسی کی بھی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ فریقین ضروری تیاریاں کر لیں۔

جمعہ کو شروع ہوئی سماعت میں یوپی حکومت کی طرف سے ایسوسی ایٹ سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سب سے پہلے اپنا موقف پیش کیا ۔ انہوں نے کیس کی سماعت جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں سنی وقف بورڈ نے اس بات پر اعتراض کیا کہ مناسب کارروائی کے بغیر یہ سماعت کی جا رہی ہے۔

رام جنم بھومی - بابری مسجد مالکانہ حق کیس : 5 دسمبر سے شروع ہوگی حتمی سماعت ، سوامی کی عرضی خارج

ادھرسبرامنیم سوامی نے متنازع مقام پر لوگوں کو پوجا کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا، جس پر سپریم کورٹ کی بنچ نے تمام فریقوں کو سب سے پہلے یہ واضح کرنے کیلئے کہا کہ کون کس کی جانب سے فریق ہے۔ اس پر سنی بورڈ کی جانب سے پیروی کر رہے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اس معاملے کے کئی فریقوں کا انتقال ہو چکا ہے، ایسے میں ان کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

معاملہ سے وابستہ دستاویزات کا ترجمہ ابھی باقی

سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش وکیل کبل سبل نے عدالت عظمی میں کہا کہ اس معاملہ سے وابستہ دستاویزات کئی زبانوں میں ہیں، ایسے میں پہلے ان ترجمہ کرایا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا اصلی تاریخی دستاویزات سنسکرت ، فارسی ، اردو ، عربی اور دیگر کئی زبانوں میں ہیں ، جن کا ترجمہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ عدالت نے سات برسوں تک دستاویزات کا ترجمہ نہیں ہونے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ عدالت نے اس کام کیلئے سبھی فریقوں کے وکلا کو 12 ہفتے کی مہلت دی۔

پٹیشنر کی حیثیت سے سوامی کی عرضی مسترد

دریں اثنا بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا ، جس میں انہوں نے معاملہ کو خود کو ایک پٹیشنر بتایا تھا۔ اس کے بعد سوامی نے انٹروین کی حیثیت سے ان کو موقع دئے جانے کی درخواست کی ، جس پر عدالت نے کہا کہ وہ سبھی فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ان کو موقع دیں گے۔

سوامی کی دلیلوں کو وقف بورڈ نے کیا خارج

سماعت کے دوران سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ سے کہا کہ یہ کوئی دیوانی تنازع نہیں، بلکہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوامی نے اسے دیوانی سے بدل کر عوامی مفاد کے کیس کی طرح دیکھے جانے کی بھی اپیل کی۔ سوامی کی اس دلیل پر سنی وقف بورڈ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال تو سپریم کورٹ پہلے ہی حل کر چکا ہے۔ وقف بورڈ کے وکیل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 ججوں کی بنچ نے 1994 میں ہی یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اس زمین کے مالکانہ حق سے وابستہ دیوانی معاملے کی الگ سے سماعت کی جائے گی۔

تین ججوں کی بینچ کررہی ہے سماعت

سپریم کورٹ نے اس بے حد اہم معاملہ کے حل کے لئے تین ججوں جسٹس دیپک مشرا، اشوک بھوشن اور عبدالنذیر کی خصوصی بنچ قائم ہے۔ یہ بنچ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی درخواستوں اور متنازع زمین کے مالکانہ حق پر فیصلہ کے لئے روزانہ سماعت کرے گی۔

ہائی کورٹ نے تینوں فریقوں کے درمیان تقسیم کردی تھی اراضی

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 2010 میں متنازع مقام کے 2.77 ایکڑ علاقے کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للہہ کے درمیان برابر-برابر حصے میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ چند ماہ قبل کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے کا عدالت سے باہر حل نکالنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے ۔ مختلف فریقین کی جانب سے اس رخ پرکوشش بھی کی گئی، لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا۔ لہذا عدالت ابھی خوبی اور خامی کی بنیاد پر ہی اس تنازعہ کا تصفیہ کرے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز