پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرئی اور واک آؤٹ کے درمیان بحث کے بغیر فائنانس بل پاس

Mar 14, 2018 04:50 PM IST | Updated on: Mar 14, 2018 04:50 PM IST

نئی دہلی : الگ الگ معاملے پر مختلف پارٹیوں کے ہنگامے، نعرے بازی اور کچھ پارٹیوں کے واک آؤٹ کے درمیان 2018 کا فائنانس بل، سبھی وزارتوں اور محکموں کے مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل کو لوک سبھا نے آج صوتی ووٹ سے منظوری دے دی۔حال کے سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی وزارت کی مطالبات زر اور فائنانس بل کی ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس کردیاگیا ہے۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ کو شروع ہونے کے بعد سے ہی ایوان میں حزب مخالف کے ممبران او برسراقتدار یوپی اے کی حمایتی تیلگو دیشم پارٹی کے ہنگامہ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوپائی ہے۔

فائنانس بل اور کچھ وزارتوں کے مطالبات آج کی فہرست میں بحث کرانے اور پاس کرانے کے لیے موجود تھیں۔ پروگرام کی فہرست کے مطابق مختلف وزارتو ں اور محکموں کے مطالبات زر ایک ساتھ شام 5 بجے پاس کرائے جانے تھے لیکن پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے صبح کارروائی شروع ہونے پر حزب مخالف کے ہنگامے کے درمیان اسپیکر سے گزارش کی کہ سبھی گرانٹس مانگیں اور فائنانس بل 2018 اور روا ں مالی سال کی ضمنی مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل دوپہر 12 بجے کے بعد پاس کردیئے جائیں۔ اسپیکر نے ان کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے معطل کردی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر وزیر مالیات ارون جیٹلی نے سبھی وزارتوں اور محکمے کی گرانٹس مانگیں (گلے ٹین)، ان سے متعلقہ تصرف بل پاس کرانے کے لیے پیش کیا۔ جسے ایوان نے ہنگامہ کے دوران صوتی ووٹ سے پاس کردیا۔

پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرئی اور واک آؤٹ کے درمیان بحث کے بغیر فائنانس بل پاس

فائل فوٹو

اس کے بعد انہوں نے فائنانس بل 2018کو 21 ترمیمات کے ساتھ غور کرنے اور پاس کرانے کے پیش کیا جسے ایوان نے بغیر بحث کے منظور کردیا۔ اسی دوران کانگریس، ترنمول کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ رواں مالی سال کی ضمنی مطالبات زر اور متعلقہ تصرف بل بھی بغیر کسی بحث کے پاس کردیئے گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز