نوٹ بندی سے پہلے جیٹلی سے مشورہ ہوا تھا یا نہیں، یہ نہیں بتا سکتے ہیں : وزارت خزانہ

Mar 05, 2017 08:06 PM IST | Updated on: Mar 05, 2017 08:06 PM IST

نئی دہلی : وزیر اعظم مودی نے آٹھ نومبر 2016 کو نوٹ بندی کے اعلان سے پہلے وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے تبادلہ خیال کیا تھا یا نہیں، اس بارے میں وزارت خزانہ نے معلومات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم کے دفتر اور ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی اس طرح کا دعوی کیا کہ نوٹ بندی کے اعلان سے پہلے وزیر خزانہ اور مرکزی اقتصادی مشیر سے مشورہ کرنے کی معلومات دینا حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت اطلاع کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔

وزارت خزانہ نے آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8 (1) (اے) کے تحت اس سلسلے میں معلومات دینے سے انکار کر دیا ۔ تاہم اس نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ اطلاع اس دفعہ کے تحت کس طرح آتی ہے۔ آر ٹی آئی ایکٹ کی یہ دفعہ ایسی معلومات کو عام کرنے سے روکنے کی اجازت دیتی ہے ، جسے جاری کئے جانے سے ہندوستان کی خود مختاری اور سالمیت، سیکورٹی، حکمت عملی، ریاست کی سائنسی اور اقتصادی مفاد، بیرون ملک کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتا ہو ۔

نوٹ بندی سے پہلے جیٹلی سے مشورہ ہوا تھا یا نہیں، یہ نہیں بتا سکتے ہیں : وزارت خزانہ

پروسیس کے مطابق معلومات حاصل کرنے کیلئے پہلی اپیل متعلقہ وزارت میں دائر کی جاتی ہے ، جسے ایک سینئر افسر دیکھتا ہے۔ اس میں اگر معلومات نہیں مل پاتی ہے ، تو دووسري اپیل مرکزی انفارمیشن کمیشن کے پاس بھیجی جاتی ہے ۔ نوٹ بندی سے وابستہ معلومات عام کرنے سے انکار کرنے والوں میں وزارت خزانہ کے بھی شامل ہونے کے بعد اب اس کی معلومات سے براہ راست وابستہ تینوں ادارے وزیر اعظم کے دفتر، وزارت خزانہ اور ریزرو بینک آف انڈیا نے اس سلسلہ میں معلومات عام کیے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز