امانت اللہ خان سمیت عاپ کے تین ممبران اسمبلی پر خاتون سے مبینہ مارپیٹ کے معاملہ میں کیس درج

Jul 06, 2017 07:29 PM IST | Updated on: Jul 06, 2017 07:41 PM IST

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (آپ) کے تین ممبران اسمبلی کے خلاف دہلی اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران ایک عورت کے ساتھ مبینہ طور پر مار پیٹ اور دھکا مکی کرنے کے سلسلے میں سول لائن تھانے میں مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ سمرن جیت کور بیبی کے نام کی خاتون نے آپ کے تلک نگر سے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ، اوکھلا سے امانت اللہ خان اور مالویہ نگر سے سومناتھ بھارتی کے خلاف یہ ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ تینوں کے خلاف دفعہ 323، 342، 354، 354 اے (1) اور 509/34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خاتون نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ 28 جون کو اسمبلی میں اس کے ساتھ مارپیٹ، بدتمیزی، ناقابل برداشت رویے، بےهودي باتیں، چھیڑ خانی اور دھکا مکی کی گئی اور اس کی توہین کی گئی۔ شکایت میں کہا گیا کہ جب یہ واقعہ ہوا، ایوان کی کارروائی ملتوی تھی۔ میں اسمبلی کی کارروائی دیکھنے گئی تھی لیکن میرا ناظرین گیلری کا پاس نہیں بن پایا اور میں اسمبلی عمارت کے باہر تھی۔ میں نے کسی طرح کی مخالفت -پردرشن میں حصہ نہیں لیا.۔اسی دوران اسمبلی کی مرکزی عمارت سے ایک بھیڑ زور زور سے آواز دیتے ہوئے باہر نکلی۔ بھیڑ میں سے تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ اچانک دوڑتے ہوئے آئے اور مجھے دیکھتے ہی بولے کہ یہ وہ لڑکی ہے جس نے سنجے سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، اس کو پکڑو، اس کو مارو۔‘‘

امانت اللہ خان سمیت عاپ کے تین ممبران اسمبلی پر خاتون سے مبینہ مارپیٹ کے معاملہ میں کیس درج

شکایت میں کہا گیا ہے کہ مسٹر سنگھ کے ساتھ اوکھلا کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان بھی تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ دھکا مکی کی اور مجھے زبردستی اندر لے جانے لگے۔میری مزاحمت کے باوجود میرے ساتھ مارپیٹ اور دھکا مکی کر کے مجھے زبردستی اسمبلی کی مرکزی عمارت کے اندر کھینچ کرلے جایا گیا۔ مسٹر سنگھ اور مسٹر خان بھیڑ کو مجھے اندر لے جانے کے لیے اکسا رہے تھے۔ مجھے زبردستی اسمبلی کی مرکزی عمارت میں لے جاکر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ اس کمرے میں دو دوسرے لوگوں کو بے رحمی سے پیٹا جا رہا تھا۔ مسٹر خان نے بدنیتی کے ساتھ میرے سینے پر ہاتھ مارا اور مجھے نیچے گرا دیا۔ مسٹر سنگھ نے میرے پیٹ پر لات ماری اور گھسے بھی مارے۔ مسٹر بھارتی نے بھدی-بھدی گالیاں دیں۔ یہ سب تقریباً آدھے گھنٹے تک چلتا رہا اور مجھے ایک گھنٹے تک اسی کمرے میں یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ میں گڑگڑاتي رہی لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی۔ پولیس اور ڈاکٹر کے آنے کے بعد ماحول پرسکون ہوا اور مجھے جانچ کے لیےاسپتال لے جایا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز