ایکسکلوزیو: ملک کے لئے کچھ کر گزرنا چاہتے تھے شہید فیروز ڈار، پڑھیں ان کی ڈائری کے صفحات

Jun 19, 2017 12:39 PM IST | Updated on: Jun 19, 2017 12:40 PM IST

سری نگر۔ اننت ناگ میں لشکر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ایس ایچ او فیروز احمد ڈار کا ایک پرانا فیس بک پوسٹ سامنے آیا ہے۔ 2013 میں اپنے اس پوسٹ میں ڈار نے لوگوں کو اپنے آخری سفر کا تصور کرنے کو کہا تھا۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ لیکن نیوز 18 آپ کو شہید فیروز احمد ڈار کی زندگی کے دو برسوں کی ان سنی کہانیاں بتا رہا ہے، جس سے ان کی شخصیت کا ایک الگ ہی روپ نظر آتا ہے۔

دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے فیروز احمد ڈار نے اپنی زندگی کے دو اہم سال مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں گزارے تھے۔ کشمیر میں پولیس سروس جوائن کرنے سے پہلے فیروز احمد ڈار نے زندگی میں کچھ الگ ہی خواب دیکھے تھے۔ اپنے انہی خوابوں کو پورا کرنے فیروز احمد کشمیر سے سینکڑوں کلومیٹر جھيلوں کی نگری بھوپال آئے تھے جہاں دو سال رہ کر انہوں نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ایکسکلوزیو: ملک کے لئے کچھ کر گزرنا چاہتے تھے شہید فیروز ڈار، پڑھیں ان کی ڈائری کے صفحات

کشمیر یا ملک کے دوسرے حصے سے تعلیم کے لیے بھوپال آنے والے فیروز اکیلے طالب علم نہیں تھے۔ لیکن ان میں کچھ بات ہی ایسی تھی کہ ان سے رابطہ میں آنے والے ہر شخص کے دل میں ان کی چھاپ چھوٹ جاتی تھی۔ ایسے میں ان کی شہادت کی خبر سن کر ساتھ میں پڑھنے والے ہر شخص کی آنکھ نم ہے۔ ہر کسی کی زبان پر ان سے اور ان کی حب الوطنی سے منسلک کہانیاں ہیں۔

ہاسٹل کا کمرہ نمبر 52

برکت اللہ یونیورسٹی کالج ہاسٹل میں روایت تھی کہ جونیئر اسٹوڈنٹ کو آغاز میں کچھ وقت سینئر طالب علم کے کمرے میں گزارنا پڑتا تھا۔ فیروز کو بھی ابتدائی دنوں میں سینئر کے ساتھ روم شئیر کرنا پڑا تھا۔ بعد میں انہیں سنجے گاندھی ہاسٹل کا کمرہ نمبر 52 الاٹ ہوا تھا جہاں مکیش کمار گوتم ان کے روم میٹ تھے۔ فیروز احمد کے ساتھ وابستہ یادوں کو شئیر کرتے ہوئے مکیش جذباتی ہو اٹھتے ہیں۔ وہ اب بھی اس بات کا یقین نہیں کر پا رہے ہیں کہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہنے والے فیروز اس دنیا میں نہیں ہیں۔ شروع سے ہی ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کی خواہش رکھنے والے شہید فیروز سے منسلک مکیش کے پاس کئی قصے ہیں، جنہیں بتاتے ہوئے چہرے میں مسکراہٹ کے ساتھ ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

جب سب بھاگ گئے تب بھی ڈٹے رہے فیروز

مشکلوں سے مقابلہ کرنا ہمیشہ سے ہی فیروز کی شخصیت کا حصہ تھا۔ وہ جب پڑھنے کے لئے کشمیر سے بھوپال آئے تو ان کے ساتھ قریب 70 سے 80 اسٹوڈنٹس بھی ساتھ تھے۔ کالج میں ریگنگ کے خوف سے آدھے سے زیادہ طالب علم واپس بھاگ گئے، لیکن فیروز پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھے۔ انہوں نے اس مرحلے کو بھی ہنستے ہنستے کچھ ایسے گزارا کہ سينيرس کے بھی چہیتے بن گئے۔

کرکٹ اور والی بال بھی پسند

مکیش کے علاوہ ہاسٹل کے دوسرے طالب علموں کے پاس بھی فیروز سے جڑی کئی یادیں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فیروز زیادہ تر وقت کتابوں میں ہی مشغول رہتے تھے۔ لیکن جب باری آتی تھی کرکٹ اور والی بال کھیلنے کی تو وہ ہمیشہ ٹیم میں شامل ہوتے تھے۔ انہیں یہ دونوں ہی کھیل بہت پسند تھے۔

Feroz-Ahmad-Dar-Diary

کشمیری بھی محب وطن ہوتے ہیں

مکیش بتاتے ہیں کہ کشمیر سے ہونے کی وجہ سے کئی بار ساتھی طالب علم ان سے ملک کے اس ریاست کے مزاج کو لے کر بحث کرتے رہتے تھے۔ ایسی بات چیت کے دوران دہشت گردی کو لے کر فیروز بھی کھل کر اپنی بات رکھتے تھے۔ کشمیریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر فیروز اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے، سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم اسی ملک کے شہری ہیں۔

جس ملک کی روٹی کھاتے ہیں

ہر کسی سے بے حد ادب سے پیش آنے والے فیروز ہمیشہ کہتے تھے کہ جس ملک کی روٹی کھاتے ہیں، اس ملک سے ایمان نبھانا چاہئے۔ ان میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ-کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کالج میں سینئر رہے ان کے ایک ایسے ہی ساتھی نے اپنی ڈائریوں کے کچھ حصوں کو شئیر کیا ہے، جس میں فیروز نے اپنی زندگی کا مقصد لکھا تھا۔ فیروز نے اپنی زندگی کے مقصد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا، 'وہ معاشرے میں ایک قابل احترام شخص بن کر ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔'

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز