امکانات اور اندیشوں کے سرگرم اظہار میں گزرا جی ایس ٹی کا پہلا دن ، پڑھیں کس نے کیا کہا ؟

Jul 01, 2017 06:12 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 06:37 PM IST

نئی دہلی : کالے دھن پر قابو پانے کی پچھلے سال کی تاریخی کوشش کے بعدحکومت ہند نے آزادہندستان میں پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا قدم اٹھاتے ہوئے کل آدھی رات کوسروسز اینڈ سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی ) کے نفاذ کا اعلان کر دیا جس پر عام لوگوں، رہنماؤں اور بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے موافقانہ ، مخالفانہ ، محتاط غرض ہر طرح کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جہاں کہا ہے کہ جی ایس ٹی اجتماعی ترقی کی راہ ہموار کرے گی، ملک ایک نئے نظام کی طرف چل پڑے گا اور 'کالے دھن اور بدعنوانی کو روکنے میں مدد کے ساتھ ہی یہ ایمانداری سے کاروبار کرنے کی حوصلہ افزائی میں مدد کرے گا وہیں جی ایس ٹی کے نفاذ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہاہے کہ یہ وہ اصل جی ایس ٹی نہیں ہے جو ماہرین نے مرتب کیا تھا ۔ اس کے افراط زر پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

امکانات اور اندیشوں کے سرگرم اظہار میں گزرا جی ایس ٹی کا پہلا دن ، پڑھیں کس نے کیا کہا ؟

اس نئے ٹیکس نظام کے پہلے دن، کچھ الجھن میں پھنسے لوگوں نے اپنے پہلے بلوں کو آن لائن سامنے لانے کی کوشش بھی کی ہے۔بظاہر لوگ ان دو ٹیکسوں کے تعلق سے الجھن میں ہیں جو ان سے لئے گئے ہیں۔ ریستورانوں میں بہر حال کھانے پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد ہونے جا رہی ہے جس میں ایک حصہ ریاست کا اور دوسرا مرکز کا ہوگا۔ بلوں میں متعین دو محصولات بظاہر کچھ اور نہیں دو حصوں میں منقسم جی ایس ٹی ہیں۔

کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ جی ایس ٹی کی ڈھانچہ سازی امیروں کے لئے، امیروں کے ذریعہ اور امیروں کے بارے میں ہوئی ہے۔پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے جی ایس ٹی کو مزید ٹیکس مسلط کرنے کا مرکز کا میکانیزم قرار دیا ہے۔مہندرا گروپ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر آنند مہندرا نے جی ایس ٹی کے نفاذ کا خیر مقدم کیاہے۔

ٹیکس کے اس نئے نظام کے حامیوں کا جہاں کہنا ہے کہ اس سے قومی معیشت کو ایک بڑی منڈی میں بدلنے میں مدد ملے گی نیز بدعنوانی اور ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکے گا وہیں اس کی مخالفت کرنے والوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ چونکہ یہ نظام چھوٹے اور درمیانے تاجروں کی فہم سے بالا تر ہے لہذا اس کا منفی فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔

حکومت کا بہر حال استدلال ہے کہ اس کی وجہ سے مُلک میں ٹیکس کے موجودہ نظام میں بہتری آئے گی وہاں قومی منڈی میں بھی ٹیکس کے اس جامع نظام سے یکسانیت پیدا ہو گی۔کئی مرکزی وزیروں بشمول پٹرولیم کے وزیر دھرمندر پردھان نے کہا ہے کہ نئے شفاف، موثر اور ترقی پسند بالواسطہ ٹیکس نظام سے "نئے ہندستان" کا خواب پورا ہو گا۔وزیر توانائی پیوش گوئل نے کہا کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر پوری قوم نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس "کھیل بدلنے والی" اصلاحات کے آغاز کا جشن منایا ہے ۔ اس طرح ایک دیرینہ آرزو پوری ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں کل رات ٹھیک بارہ بجے جب ایک خاص تقریب میں ایک ایپ کے ذریعے اس کا اطلاق عمل میں لایا گیا تو اس کی گواہی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی اور نائب صدر محمد حامد انصاری کے علاوہ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیويگوڑا بہ نفس نفیس موجود تھے۔ٹی وی اور دوسرے ذرائع سے ملک کے ایک سو تیس کروڑ عوام بھی اس تاریخی واقعے کے گواہ رہے۔ کانگریس پارٹی اس تقریب کا بائیکاٹ کرنے کےفیصلے پر قائم رہی۔مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس بھی شامل تقریب نہیں ہوئی۔

نئے نظام میں ملک کی مختلف ریاستوں میں چیزوں پر محصول ایک ہو جائے گا ۔ اس طرح ایک سے زیادہ ٹیکس کے تعلق سے لوگوں میں جو کنفیوژن رہتا ہے وہ باقی نہیں رہے گا اور اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کوبھی خاطر خواہ فروغ ملے گا۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی عملی تبدیلیاں آنی بھی شروع ہو گئی ہیں۔پسنجر کار بنانے والی ملک کی معروف کمپنی ماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹڈ نے گڈس سروس ٹیکس(جی ایس ٹی) لاگو ہونے سے ٹیکس کی شرح میں آئی کمی کا فائدہ صارفین کو پہنچاتے ہوئے اپنی كاروں کی قیمتوں میں تین فیصد تک کمی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ستر سال قبل 14 اگست 1947 کو اسی طرح رات کے 12.00 بجے تقسیم کے صدمے سے ابھرتے ہندستان کی آزادی کا اعلان ہوا تھا۔ 1949 میں پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں ہی ملک کےاس آئین کو قبول کیا گیا تھا جس پر قوم آج بھی نازاں ہے۔ اس لحاظ سے تھا ایک نئے اقتصادی نظام اور اس کی وفاقی ساخت کو متعارف کرانے کے لیے اس سے بہتر دوسری اور کوئی جگہ نہیں ہو سکتی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز