سدھارتھ نگر کی راپتی، ​​بوڑھی راپتی اور گھوگھی ندیوں کی طغیانی نے مچا رکھی ہے تباہی

Aug 19, 2017 04:51 PM IST | Updated on: Aug 19, 2017 04:51 PM IST

سدھارتھ نگر۔ نیپال سے پانی چھوڑے جانے سے اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر میں راپتی، ​​بوڑھی راپتی، کوڑا اور گھوگھي ندیوں اور جمار نالے کی طغیانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بوڑھی راپتی ​​ندی خطرے کے نشان سے 3 میٹر اوپر، راپتی ​​70 سینٹی میٹر اوپر، کوڑا نڈی 1 میٹر اوپر اور گوگھی ندی 65 سینٹی میٹر اوپر بہنے سے ضلع کے بانسي، اٹوا، ڈومریا گنج ، شہرت گڑھ اور نوگڑھ تحصیل کے 500 سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں جہاں ڈھائی سو سے زیادہ گاؤں سیلاب کے پانی سے چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کی راپتی ​​ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ سے ضلع میں سیلاب کی حالت اور بگڑنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کل باسي اور اٹوا تحصیل میں سیلاب کے پانی میں ڈوب کر دو لوگوں کی موت ہونے سے ضلع میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہو گئی ہے۔ کشتی کی کمی کی وجہ سے سیلاب متاثرہ گاؤں میں امدادی کام شروع نہیں ہو پا رہے ہیں جس سے نمٹنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے حکومت سے امدادی کارروائیوں کے لئے 50 اضافی کشتیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ضلع کے دورے سے پہلے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے اور امدادی سامان کی تقسیم میں تیزی لانے کے لئے فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کو لگایا تھا ، مگر اس سے امدادی سامان گرانے کے باوجود سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام نہیں ہو سکا ۔جس سے سیلاب متاثرہ گاؤں کے باشندوں نے مکان کی چھتوں، درختوں اور اونچے مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔ علاقے میں پی اے سی کی دو ٹیمیں ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی دو یونٹوں کے علاوہ 92 کشتی اور 12 موٹر کشتی بھی راحت کے کام میں لگی ہیں۔

سدھارتھ نگر کی راپتی، ​​بوڑھی راپتی اور گھوگھی ندیوں کی طغیانی نے مچا رکھی ہے تباہی

ذرائع نے بتایا کہ ضلع کے چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آنے سے ضلع ہیڈکوارٹر کو جوڑنے والی تمام سڑکوں اور دیہی علاقوں میں ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ پڑی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع ہیڈکوارٹر کے درمیان بہنے والے جمار نالے کی آبی سطح بھی خطرے کے نشان سے 2 میٹر 20 سینٹی میٹر اوپر چلے جانے سے ضلع ہیڈکوارٹر کے زیادہ تر محلوں میں سیلاب کا پانی گھس گیا ہے اور کلیکٹریٹ سمیت زیادہ تر سرکاری دفاتر بھی سیلاب کے پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز