نیپال کے پانی چھوڑنے سے سدھارتھ نگرمیں سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ، سینکڑوں گاوں میں تباہی

نیپال کی جانب سے پانی چھوڑے جانے سے اترپردیش کے سدھارتھ نگر ضلع میں راپتی، ​​بوڑھی راپتی، کوڑا اور گھوگھي ندیوں اور جماوار نالے کی حالت سیلاب کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

Aug 20, 2017 06:01 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 06:01 PM IST

سدھارتھ نگر: نیپال کی جانب سے پانی چھوڑے جانے سے اترپردیش کے سدھارتھ نگر ضلع میں راپتی، ​​بوڑھی راپتی، کوڑا اور گھوگھي ندیوں اور جماوار نالے کی حالت سیلاب کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ راپتی ​​ندی خطرے کے نشان سے 85 سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے جو 1998 کے سب سے زیادہ پانی کی سطح سے 10 سینٹی میٹر سے زیادہ ہے جبکہ بوڑھی راپتی ​​خطرے کے نشان سے 02 میٹر 20 سینٹی میٹر اوپر، کوڑا 1 میٹر 50 سینٹی میٹر اوپر، گھوگھي ندی 40 سینٹی میٹر اوپر اور جموار نالہ بھی 02 میٹر اوپر بہہ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت راپتی ​​ندی کی آبی سطح مستحکم ہے۔ اورنگ ندی کے پانی کی سطح میں معمولی کمی ہونے کے باوجود سیلاب سے ضلع کے 650 سے زیادہ گاؤں زد میں ہیں، جس سے 350 سے زیادہ گاؤں سیلاب کے پانی سے چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیموں کے ٹوٹنے اور ڈیموں میں ہو رہے رساؤ سے اب سیلاب سے حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

نیپال کے پانی چھوڑنے سے سدھارتھ نگرمیں سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ، سینکڑوں گاوں میں تباہی

ذرائع نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 121 کشتیاں ، دو پلاٹون پی اے سی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی دو یونٹ اور 24 موٹر بوٹ ریلیف کے کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن کشتیوں کی کمی سے ابھی تک سیلاب سے گھرے ارے گاؤں تک راحت نہیں پہنچ سکی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ امدادی کاموں میں تیزی لانے کے احکامات دئے گئے ہیں اور الہ آباد سے کشتیاں منگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلابوں میں پھنسے ہزاروں افراد نے گھروں کی چھتوں پر، درختوں کے اوپراور اونچے مقامات پر پناہ لے رکھی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 42 سیلابی چوکیاں اور آٹھ بیس کیمپ کام کر رہے ہیں۔راپتی ندی کے کنارے بنے رنگ باندھ کے ٹوٹنے سے سیلاب کاپانی بانشی قصبہ کے کئی محلوں میں پھیل گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے امدادی کام کے لئے ضلع کوایک کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے پانی میں کسی اور شخص کی موت کے بعد، ضلع میں سیلاب میں مرنے والے افراد کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ ضلع میں 2100 آنگن واڑی مراکز اور 566 پرائمری اور جونیئر ہائی اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈائریا اور دیگر مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، نتیجے میں تین افراد کی موت ہوگئی ہے ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو بچے بھی مہلوکین میں شامل ہیں۔ دریں اثناء ڈومریا سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ممبرپارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے سیلاب سے نمٹنے میں ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امدادی کام کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز