نسیم الدین صدیقی اور رام اچل راج بھر سمیت بی ایس پی کے پانچ لیڈروں پر پاسکو ایکٹ ہوگا نافذ ، ملی منظوری

Jan 12, 2018 01:40 PM IST | Updated on: Jan 12, 2018 01:40 PM IST

لکھنو : اترپردیش کی وزیر سواتی سنگھ معاملہ میں اب بی ایس پی کے ریاستی صدر رام اچل راج بھر اور بی ایس پی کے سابق لیڈر نسیم الدین صدیقی اور میوالال سمیت پانچ دیگر لیڈروں کے خلاف محکمہ داخلہ نے پاسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دیدی ہے، جس کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ان لیڈروں کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال ان لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

غور طلب ہے کہ 19 جولائی 2016 کو بی جے پی کے ریاستی صدر بنائے جانے کے بعد مئو دورہ کے دوران دیا شنکر سنگھ نے بی ایس پی کی سربراہ مایا وتی پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے مایاوتی کا فاحشہ سے موازنہ کرتے ہوئے بی ایس پی پر ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔

نسیم الدین صدیقی اور رام اچل راج بھر سمیت بی ایس پی کے پانچ لیڈروں پر پاسکو ایکٹ ہوگا نافذ ، ملی منظوری

بی ایس پی کے ریاستی صدر رام اچل راج بھر اور بی ایس پی کے سابق لیڈر نسیم الدین صدیقی۔ فائل فوٹو

اس کے بعد بی ایس پی کے کارکنوں نے ریاست بھر میں مظاہرہ کیا تھا اور 21 جولائی کو لکھنو میں نسیم الدین صدیقی ، ریاستی صدر رام اچل راج بھر اور پارٹی کے سکریٹر میوالا کی قیادت میں مظاہرہ کے دوران دیا شنکر سنگھ ، ان کی اہلیہ سواتی سنگھ اور بیٹوں کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا گیا تھا ۔ اس دوران بی ایس پی کارکنوں نے دیا شنکر کی بیوی اور بیٹی کو پیش کرنے کی آواز اٹھائی تھی۔

اس معاملہ میں سواتی سنگھ نے 22 جولائی 2016 کو حضرت گنج کوتوالی میں بی ایس پی سپریمو مایا وتی ، اس وقت کے قومی جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی ، ریاستی صدر رام اچل راج بھر ، قومی سکریٹری میوا لال گوتم ، نوشاد علی سمیت دیگر لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز