قومی انسانی حقوق کمیشن بغیر دانت کا شیر، لو جہاد اور گئو رکشا کے نام پرقتل انتہائی تشویشناک : آر ایم لوڑھا

سابق چیف جسٹس آف انڈیا آر ایم لوڑھا نے گئو رکشا اور لو جہاد کے نام پر ہونے والے وحشیانہ قتل کے بڑھتے رجحان پر اپنی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

Dec 11, 2017 05:49 PM IST | Updated on: Dec 11, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا آر ایم لوڑھا نے گئو رکشا اور لو جہاد کے نام پر ہونے والے وحشیانہ قتل کے بڑھتے رجحان پر اپنی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے فلم پدماوتی پر تنازع پیدا کرنے پر فنی آزادیوں کو درپیش خطرات کے تئیں بھی اپنی فکرمندی ظاہر کی۔ اتوار کے روز یہاں حقوق انسانی کے دن پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ قومی حقوق انسانی کمیشن غیر موثر ہو گیا ہے اور اس کی حیثیت بغیر دانت کے ایک شیر کی ہے۔

انڈین ایکسپریس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، جسٹس لوڑھا نے کہا کہ گئو رکشا کے نام پر انسانوں کا قتل کیا جا رہا ہے۔ گئو رکشک آزادانہ طور پر ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں، کارٹونسٹوں، فنکاروں اور طلبہ کے خلاف غداری کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔

قومی انسانی حقوق کمیشن بغیر دانت کا شیر، لو جہاد اور گئو رکشا کے نام پرقتل انتہائی تشویشناک : آر ایم لوڑھا

جسٹس آر ایم لوڑھا کی فائل فوٹو

خیال رہے کہ دو دن پہلے راجستھان کے راجسمند میں مبینہ لو جہاد کے نام پر افرازالاسلام نامی مغربی بنگال کے ایک شخص کا قتل کر کے وحشیانہ طور پر اسے زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوڑھا نے اسی سے جڑا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب دو بالغ افراد محبت کرنے لگیں تو کیا مذہب کا اس میں کوئی دخل ہونا چاہئے۔

سابق چیف جسٹس نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی کہ کس طرح سے ملک بھر میں لو جہاد کے نام پر لوگوں کو مارا جاتا ہےاور حقوق انسانی کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ سماج کے تئیں جوابدہ نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کے خلاف پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرتی بلکہ وہ اس طرح کے معاملات میں لاپروائی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ لوڑھا نے کہا کہ ہر دن یہ سوال مجھے جھنجھوڑتا رہتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز