بھارتیہ جنتا پارٹی سے نکالا گیا تو میرے لئے 'اچھا دن' ہوگا: یشونت سنہا

Oct 06, 2017 11:49 AM IST | Updated on: Oct 06, 2017 11:49 AM IST

نئی دہلی۔  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف باغیانہ تیور مزید سخت کرتے ہوئے کل کہا کہ اگر پارٹی ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وہ ان کے لئے بہت 'اچھا دن' ہو گا۔ مسٹر یشونت سنہا نے کانگریس کے سینئر ترجمان اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کی کتاب 'ٹائڈنگس آف ٹرابلڈ ٹائمز' کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات پر وہ جو کچھ بول رہے ہیں ، وہی سچائی ہے۔ وہ سچ بولنے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ خوف اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ سچ بولنے کی وجہ سے بی جے پی ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سچ بولنے سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور اس کے لئے اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور انہیں پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے تو ان کے لئے وہ سب سے اچھا دن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں جو بات وہ کہہ رہے ہیں پارٹی کے ہزارہا لیڈر وہی محسوس کرتے ہیں، لیکن خوف کی وجہ سے کوئی بولتا نہیں ہے۔ مسٹر یشونت سنہا نے کہا کہ جو بھی وہ کہتے ہیں، پارٹی کے بہت سے لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن خوف کی وجہ سے وہ کھل کرسامنے نہيں آتے ہیں۔ سیاست میں اس طرح کا خوف عام بات ہے لیکن انہیں سچ بولنا آتا ہے ۔ بی بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ، "اگر میری بات میں کوئی سچائي نہیں ہے تو میرے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل پر کل شام سوا گھنٹے کی تقریر کیوں کرنی پڑی؟  انہوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ، "ملک میں اسٹینڈ اپ انڈيا، اسٹارٹ اپ انڈيا، سٹ ڈاؤن انڈیا، جیسے نہ جانے کتنے پروگرام چل رہے ہیں ، ان سب کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ضرورت ہے تو اس بات کی ہے کہ ہم سب ہندوستان کے لئے کھڑے ہوجائيں"۔ بی جے پی کے رہنما نے کہا کہ اگرچہ ان کی عمر 80 سال ہوچکی ہے، ان کے اندر لڑائی لڑنے کا دم خم اب بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہار کےانقلابی اور عظیم مجاہد آزادی بابو کنور سنگھ کی مثال د یتے ہوئے کہا کہ 80 برس کے بعد بھی انہوں نے آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "آزادی کے لئے لڑائی لڑنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی سے نکالا گیا تو میرے لئے 'اچھا دن' ہوگا: یشونت سنہا

یشونت سنہا نے کانگریس کے سینئر ترجمان اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کی کتاب 'ٹائڈنگس آف ٹرابلڈ ٹائمز' کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات پر وہ جو کچھ بول رہے ہیں ، وہی سچائی ہے۔

مسٹر سنہا نے کہا جب ایک اخبار میں معیشت کی صورتحال پر ان کا مضمون شائع ہوا تو اس کے جواب میں ان کے بیٹے اور مرکزی وزیر جینت سنہا کو ان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ باپ اور بیٹے کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ہوئی ، تاکہ ان دونوں کے الجھنے کی وجہ سے معیشت پر اٹھائے گئے سوالات دب جائیں لیکن ان کی یہ چال نہیں چلی ۔

انہوں نے کہا کہ اس چال کے ناکام ہونے کے بعد کہا گیا کہ مسٹر یشونت سنہا برکس جیسی تنظیم کے سربراہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ حکومت ہند میں وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ جیسے اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں، لہذا برکس جیسی چھوٹی موٹی تنظیم کا سربراہ بننے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یہاں بھی کوئی چال نہیں چلی، تو انہیں کی باتوں پر کل تقریبا ایک گھنٹہ کی تقریر کرنی پڑی۔

اس موقع پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے پورا ملک پریشان ہو گیا ہے۔ پورے ملک میں مذہبی اور نسلی زہر گھول دیا گیا ہے اور ایسا اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز