جسٹس ایم ایس اے صدیقی کوپرنب مکھرجی پیش کریں گے سرسید ایکسیلنس ایوارڈ

Oct 16, 2017 11:07 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 11:07 PM IST

نئی دہلی: سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات(این سی ایم ای آئی) کے سابق چیئرمین جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی کو سرسیدایکسیلنس ایوارڈسے نوازیں گے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسد احمد خان کی دو سوسالہ یوم پیدائش کے موقع پر دئے جانے والے سرسید ایکسی لنس ایوارڈ کے تحت جسٹس صدیقی کو ایک توصیفی سند کے علاوہ ایک لاکھ روپے کی رقم بھی پیش کی جائے گی۔جسٹس صدیقی کو یہ ایوارڈہندوستان میں حاشیہ پررہ رہے طبقات کوسماجی، اقتصادی وتعلیمی طورپراوپراٹھانے کیلئے ان کی نمایاں کارکردگی کے لئے دیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس صدیقی کے دورمیں این سی ایم ای آئی نے دس ہزارسے زائدعیسائی،جینی، مسلم ، پارسی اورسکھ مذہبی اقلیتوں کے ذریعہ قائم اورچلائے جارہے تعلیمی اداروں کواقلیتی حیثیت عطاکیاہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بھی 5برس قبل اقلیتی حیثیت پھرسے بحال کرانے کا سہراانہی کے سرجاتاہے جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ برسوں میں ہزاروں کی تعدادمیں اقلیتی طلبافائدہ اٹھاچکے ہیں۔ایک ایسے وقت جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی حیثیت تقریباً 12برس قبل الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت کالعدم قراردے دی گئی ہے اوراس سے متعلق معاملہ ہنوزعدالت میں چل رہاہے،جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے اقلیتی کردارکے ساتھ اقلیتی طلباکیلئے خصوصی طورپراوردیگرکمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلباکے لئے عمومی طورپرباعث راحت بنی ہوئی ہے اورن کے مستقبل کی امیدوں کاسہاراہے۔

جسٹس ایم ایس اے صدیقی کوپرنب مکھرجی پیش کریں گے سرسید ایکسیلنس ایوارڈ

جسٹس صدیقی دس برس تک مذکورہ قومی کمیشن کے چیئرمین رہے۔ 1991 میں انہیں سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کی ہلاکت کے معاملے کی جانچ کیلئے جسٹس ورماانکوائری کمیشن کاسکریٹری بنایاگیا۔1992میں یہ سپریم کورٹ کے جسٹراررہے۔1995میں ان کی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں بحیثیت جج تقرری ہوئی اورپھروہاں سے یہ دہلی ہائی کورٹ جج کے طورپربھیج دےئے گئے۔2001میں دہلی ہائی کورٹ سے فراغت کے بعدیہ بینکوں کے کمرشیل اورمالیاتی فراڈپرنظررکھنے کیلئے قائم ریزروبینک آف انڈیاکی ایڈوائزری بورڈ کے رکن بنائے گئے۔

پھر2002میں ریلوے کلیمزٹریبونل کے چےئرمین بنے۔2004سے 2014تک انہو ں نے مرکزی وزیرمملکت کے درجہ کے ساتھ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے اولین چیئرمین کے طورپرزبردست خدمات انجام دیں۔پھر2011میں انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعہ تشکیل کردہ ایتھکس کمیشن اور2013میں قومی یکجہتی کونسل کے رکن بنائے گئے۔یہ فی الحال آل انڈیا فیڈریشن فارسوشل جسٹس (اے آئی ایف ایس جے )کے چیئرمین ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز