چار ملکوں نے توڑا قطر سے رشتہ، جانئے ہندوستان پر کیا پڑے گا اس کا اثر

Jun 05, 2017 04:06 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 04:06 PM IST

نئی دہلی۔ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے خلیجی ممالک نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر لئے ہیں۔ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ قطر اور اس کے قریبی ممالک کے تعلقات ٹوٹنے کا مشرق وسطی پر خاصا اثر پڑے گا، یہاں خلیجی ممالک نے اپنی اقتصادی اور سیاسی طاقت کا استعمال لیبیا، مصر، شام، عراق اور یمن میں ہوئے واقعات میں کیا ہے۔ قطر میں سب سے زیادہ ہندوستانی رہتے ہیں۔ ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گلف ممالک کے ذریعہ قطر سے رشتہ توڑنے کا نئی دہلی-دوحہ کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور اس سے قطر میں رہنے والے ہندوستانی کتنے متاثر ہوں گے۔

آمدورفت

چار ملکوں نے توڑا قطر سے رشتہ، جانئے ہندوستان پر کیا پڑے گا اس کا اثر

سعودی پریس ایجنسی بذریعہ اے پی

ہندوستانیوں کے لئے قطر کے سفر میں کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ہندوستان سے دوحہ کی پروازیں پرسين گلف روٹ سے ہوکر جاتی ہیں۔ سعودی اور دیگر ممالک کی طرف سے عائد فضائی پابندی کا پرسين گلف روٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

قطر میں رہنے والے ہندوستانی

قطر میں رہنے والے ہندوستانیوں کو یو اے ای جانے کے لئے مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یو اے ای میں بھی بڑی تعداد میں ہندوستانی رہتے ہیں۔ قطر میں رہنے والے ہندوستانیوں کو قطر سے پہلے کسی دوسرے ملک میں جانا ہو گا، پھر وہاں سے یو اے ای کی فلائٹ پکڑنا ہو گی۔

تجارتی اور دفاعی تعلقات

ہندوستان اور قطر کے دفاعی اور اقتصادی تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ سال 2014-15 میں ہندوستان نے قطر میں 1.05 بلین ڈالر کا سامان ایکسپورٹ کیا تھا۔ کل دو طرفہ تجارت 15.67 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ مارچ 2014 میں ہندوستانی كنٹریكٹر لارسن اینڈ ٹربوکو 2.1 بلین قطری ریال کا پروجیکٹ دیا گیا تھا۔ قطر ریلوے نے دوحہ میٹرو کے لئے ریلوے لائن کے ڈیزائن اور تعمیر کے لئے لارسن اینڈ ٹربوکو 740 ملین ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے۔

ہندوستان کے سعودی عرب سے بھی قریبی تعلقات ہیں، لیکن ہمیں کسی ایک کی جانبداری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

گیس کی فراہمی

ہندوستان کے پیٹرونیٹ ایل این جی نے کہا کہ اس کا قطر سے ہونے والی گیس کی فراہمی پر اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔ قطر میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا گیس ریزرو ہے۔ ہندوستان میں قطر سے سمندر کے راستے سے گیس کی فراہمی ہوتی ہے۔ پیٹرونیٹ ایل این جی ہندوستان کا سب سے بڑا گیس درآمد کنندہ ہے۔ یہ قطر سے سالانہ 8.5 ملین ٹن لیکوئفائڈ قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کرتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز