سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی نماز کی ادائیگی پر قدغن

Oct 20, 2017 07:41 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 07:41 PM IST

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بعض حصوں بالخصوص پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنادی۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی کشمیر میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد وادی گیر احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی۔

علیحدگی پسند قیادت نے جمعرات کو جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا ’20 اکتوبر کو نماز جمعہ کے بعدکشمیری اپنی عزت ماب خواتین پر ہورہے حملوں کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کریں گے تاکہ دشمنوں پر واضح ہوجائے کہ کشمیری ان حملوں کو کسی بھی صورت میں ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے ‘۔ جامع مسجد میں 6 اور 13 اکتوبر کو بھی بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی نماز کی ادائیگی پر قدغن

دونوں موقعوں پر علیحدگی پسند قیادت نے کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات کے خلاف نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کی کال دی تھی۔ کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر شہر کے سات پولیس تھانوں ایم آر گنج، نوہٹہ، خانیار، صفا کدل، رعناواری، کرال کڈھ اور مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز