جموں و کشمیر : 7ہفتوں کے بعد سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد پابندی ختم

Aug 04, 2017 04:14 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 04:14 PM IST

سری نگر : جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں واقع کشمیری عوام کی سب سے بڑی عبادت گاہ ’تاریخی و مرکزی جامع مسجد‘ میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد پابندی آج سات ہفتوں کے بعد ہٹالی گئی جس کے بعد اس623 برس قدیم تاریخی مسجد میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا کی۔ تاہم گذشتہ قریب 50 دنوں سے اپنی رہائش گاہ پر نظربند حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے نمازیوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔

میرواعظ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’سات ہفتوں کے بعد نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ لوگوں کی حوصلہ شکنی کے لئے جامع مسجد کو جانے والے راستوں پر سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ میں نے بذریعہ فون لوگوں سے خطاب کیا‘۔ جامع مسجد میں 23 جون کو جمعتہ الوداع کے موقع پر سخت ترین بندشوں کے ذریعے نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی اور بعدازاں یہ سلسلہ مسلسل چھ جمعوں تک جاری رکھا گیا۔ وادی کی مختلف تجارتی انجمنوں کے اراکین نے جمعرات کو نوہٹہ میں جامع مسجد کے احاطے میں احتجاجی دھرنا دیکر مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن، میرواعظ کی مسلسل نظر بندی اور پائین شہر کو بار بار کرفیو کی زد میں رکھ کرپوری آبادی کو یرغمال بناکر اس پورے علاقے کو اقتصادی طور مفلوک الحال بنانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

جموں و کشمیر : 7ہفتوں کے بعد سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد پابندی ختم

file photo

اس سے قبل 27 جولائی کو وادی کی سرکردہ مذہبی تنظیموں کے سربراہان، ائمہ مساجد، علمائے کرام ، تجارتی انجمنوں کے ذمہ داران اور سول سوسائٹی اراکین نے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد مسلسل پابندی اور وادی کے سب سے بڑے مذہبی رہنما میرواعظ کی مسلسل خانہ نظر بندی اور ان کی دینی و منصبی فرائض کی ادائیگی پر عائد قدغن کا سلسلہ فوراً سے پیشتر بند کرے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ نوہٹہ سمیت پائین شہر کے کسی بھی علاقہ میں جمعہ کو پابندیاں نافذ نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح تاریخی جامع مسجد کے علاقہ کا دورہ کیا ، نے بتایا کہ انہوں نے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت کو جامع مارکیٹ کے باہر تعینات دیکھا۔ تاہم جامع مارکیٹ کے اندر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جامع مسجد کے تمام دروازوں کو نمازیوں کے مسجد میں داخلے کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے پائین شہر میں واقع اس تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں ہر جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے مختلف علاقوں سے آکر نماز جمعہ ادا کرتے آئے ہیں۔ میرواعظ جو متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر بھی ہیں، خود اس تاریخی مسجد میں جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہیں۔ جامع مسجد میں 23 جون ( جمعتہ الوداع) ، 30 جون اور 7 جولائی کو بھی سخت ترین بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز