جی ایس ٹی کے اطلاق سے جموں وکشمیر کی مالی خودمختاری پر شب خون مارا گیا : فاروق عبداللہ

جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لاکر نہ صرف ہماری مالی خودمختاری پر شب خون مارا گیا بلکہ لوگوں کو معاشی بحران کی نذر کردیا گیا۔

Nov 02, 2017 07:39 PM IST | Updated on: Nov 02, 2017 07:40 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی بدحال اقتصادی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی کہ گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا اطلاق عمل میں لاکر نہ صرف ہماری مالی خودمختاری پر شب خون مارا گیا بلکہ لوگوں کو معاشی بحران کی نذر کردیا گیا۔ اس قانون کے اطلاق کے بعد یہاں بہت سے شعبے دم توڑنے کی دہلیز تک پہنچ گئے ہیں اور ہزاروں نوجوان اس قانون کے اطلاق سے اپنا روزگار گھنوا بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے الزام لگایا کہ ریاست کی موجودہ حکومت نے بقول ان کے اپنے ناگپوری آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے بنا سوچے سمجھے ریاست پر ایسے مرکزی قوانین لاگو کئے جن سے نہ صرف ریاست کی خصوصی پوزیشن متاثر ہوئی جبکہ عام لوگ بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ جس کی مثال فوڈ بل اور جی ایس ٹی کا اطلاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقین نے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی لیکن پی ڈی پی حکومت نے وہی کیا جس کا فرمان انہیں ناگپور سے جاری ہوا تھا۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نیشنل کانفرنس پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے عہدیداروں و کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جی ایس ٹی کے اطلاق سے جموں وکشمیر کی مالی خودمختاری پر شب خون مارا گیا : فاروق عبداللہ

اس دوران یوتھ نیشنل کانفرنس ضلع سری نگر کے عہدیدار بھی اُن سے ملاقی ہوئی۔ اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، ضلع صدر گاندربل و ایم ایل اے شیخ اشفاق جبار ، نائب صدرِ صوبہ مشتاق احمد گورواور یوتھ ضلع صدر خالد ٹھاکربھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا جموں وکشمیر کی آن ،بان اور شان اور یہاں کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے نیشنل کانفرنس کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی، یہ جماعت ہمیشہ ریاست کی انفرادیت، پرچم اور شناخت کے دفاع اور ریاست سے چھینی گئی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی ، جس میں نوجوانوں کو اہم رول نبھانا ہوگا۔

جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری (اٹانومی) کو مسئلہ کشمیر کا بہترین اور سب کے لئے قابل قبول حل قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر اس سے بہتر حل کسی کے پاس ہے، جو آر پار کشمیر، تمام صوبوں کے عوام اور طبقوں کو قابل قبول ہو ، تو نیشنل کانفرنس اس حل کا خیر مقدم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کی بچی کچی خصوصی پوزیشن نیشنل کانفرنس کی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت ہی قام و دائم ہے نہیں تو وقت کہ مفاد پرستوں ، وطن فرشوں ، قوم فرشوں اور کشمیر دشمنوں نے خصوصی پوزیشن ، سٹیٹ سبجیکٹ قانون اور دفعہ370کو مکمل طور پر ختم کردیا ہوتا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ نوجوان ہی قوم کے اصل معمار ہوتے ہیں، آپ کو ہی آگے چل کر اس ریاست اور اس جماعت کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ آپ اس جماعت کے مستقبل ہو اور آپ ہی قوم کے سچے معمار اور سپاہی ہو۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز