رام ناتھ کووند کے نیا صدر جمہویہ منتخب ہونے کے ساتھ ہی عاپ کے 20 ممبران اسمبلی کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائی تیز

منافع بخش عہدے کے تعلق سے الزام کا سامنا کررہے دہلی کے 20 ممبران اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ جلد ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔

Jul 23, 2017 12:58 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 12:59 PM IST

نئی دہلی: مسٹر رام ناتھ كووند کے ملک کا نیا صدرجمہوریہ منتخب ہونے کے ساتھ ہی منافع بخش عہدے کے تعلق سے الزام کا سامنا کررہے دہلی کے 20 ممبران اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ جلد ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سامنے منافع کے عہدے کے تعلق سے ممبران اسمبلی کا معاملہ پچھلے کئی مہینوں سے زیر غور ہے۔ کمیشن اس معاملے کی سماعت تقریبا مکمل کر چکا ہے اور کبھی بھی اس مسئلے پر اپنی رپورٹ صدرجمہوریہ کو بھیج سکتا ہے۔

اروند کیجریوال حکومت کے فروری 2015 میں حلف لینے کے بعد عام آدمی پارٹی کے 21 ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری مقرر کرتے ہوئے انہیں تمام طرح کی سرکاری سہولیات دی گئی تھیں۔ حکومت کے اس قدم کے خلاف پرشانت پٹیل نامی وکیل نے منافع کے عہدہ پر برقرار رہنے کا الزام لگاتے ہوئے 19 جون 2015 کو صدر کے سامنے ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کیلئے شکایت کی تھی۔ صدر جمہوریہ نے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا تھا اور کمیشن نے اراکین اسمبلی کو نوٹس جاری کیا تھا۔

رام ناتھ کووند کے نیا صدر جمہویہ منتخب ہونے کے ساتھ ہی عاپ کے 20 ممبران اسمبلی کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائی تیز

پرشانت پٹیل کی شکایت کے بعد کیجریوال حکومت نے اپنے ان اراکین اسمبلی کی رکنیت کے تعلق سے پیدا خطرات سے بچنے کے لیے ان کی تقرری کے بعد دہلی اسمبلی میں ایک بل منظورکرکے صدر کی منظوری کے لئے بھیجا تھا جسے صدر نے گزشتہ سال جون میں منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دہلی اسمبلی میں کل 70 نشستیں ہیں ۔ قانون کے مطابق اراکین اسمبلی کے 10 فیصد کے برابر وزیر اعلی سمیت سات افراد کو کابینہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ سال 1999 میں اس وقت کے وزیر اعلی صاحب سنگھ ورما نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کھادی اور دیہی صنعت بورڈ کے چیئرمین اور دہلی خواتین کمیشن کے صدر کو منافع کے عہدے کے دائرے سے باہر کیا تھا۔ اس کے بعد 2006 میں شیلا دکشت حکومت نے ترمیم کرکے اس میں وزیر اعلی کے پارلیمانی سکریٹری کا عہدہ شامل کیا تھا۔

کیجریوال حکومت نے جن 21 ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری مقرر کیا تھا انہیں مختلف وزراء کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری مقرر کئے جانے کے معاملہ کو دہلی ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے گزشتہ سال 08 ستمبر کو ان ممبران اسمبلی کی پارلیمانی سکریٹری کے طور پر تقرری منسوخ کر دی تھی۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ممبران اسمبلی نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ جب عدالت ان کی تقرری کو منسوخ کر چکی ہے تو اب اس معاملے پر آگے سماعت نہیں کی جانی چاہیے اور اس معاملہ کو ختم کیا جانا چاہیے۔

کمیشن نے اراکین اسمبلی کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا کمیشن میں چل رہی سماعت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ کمیشن نے کہا کہ وہ عدالت کے 08 ستمبر 2016 کو فیصلہ آنے سے پہلے اور 13 مارچ 2015 سے ان کی پارلیمانی سکریٹری کے طور پر ہوئی تقرری کے دورانھیں حاصل ہوئے فوائد پر سماعت کرکے اپنا فیصلہ سنائیگا۔

کمیشن نے کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار اور ممبران اسمبلی کو اپنی باتیں رکھنے کا پورا موقع اور کافی وقت دیا۔ کمیشن کا فیصلہ اگر ممبران اسمبلی کے خلاف آتا ہے تو وہ معاملے کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں ہے، لیکن اگر صدرجمہوریہ اس معاملے میں فوری طور پر فیصلہ کرتے ہیں تو اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ صدر جمہوریہ کے فیصلے کے بعد ممبران اسمبلی کے سامنے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اختیار نہیں رہ جائے گا کیونکہ صدر کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس اس معاملے کو مسلسل اٹھاتے رہی ہیں ۔ ان کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کو بچانے کے لئے قانون کوبالائے طاق رکھ کر اتنی بڑی تعداد میں پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کی گئی۔ دونوں پارٹیاں معاملے پر فیصلہ جلد کرنے کا کئی بار مطالبہ کر چکی ہیں۔

کمیشن کا فیصلہ اگر ممبران اسمبلی کے خلاف جاتا ہے تب بھی کیجریوال حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ فروری 2015 میں دہلی اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 70 میں سے ریکارڈ 67 سیٹیں جیتی تھیں۔ دہلی میں 15 سال سے حکومت کر رہی کانگریس کا ان انتخابات میں مکمل طور پر صفایا ہو گیا تھا اور بی جے پی بھی تین سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔ ان 21 اراکین اسمبلی میں سے بعد میں راجوری گارڈن سے جرنیل سنگھ نے استعفی دے کر پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا لیکن وہ ہار گئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز