ملک میں اس وقت فرقہ پرست طاقتوں کی ڈکٹیٹرشپ اور غنڈوں کا راج : غلام نبی آزاد

Apr 03, 2017 10:22 PM IST | Updated on: Apr 03, 2017 10:22 PM IST

کنگن (گاندربل)۔  کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے الزام لگایا کہ ہندوستان میں آج فرقہ پرست طاقتوں کی ڈکٹیٹر شپ اور غنڈوں کا راج ہے جنہوں نے ہندوستان کی جمہوریت کو پلید کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی اور نہرو کے سیکولر دیش کو فرقہ پرستی میں تبدیل کر کے ملک کی سبھی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک جاری رکھا ہے۔ موجودہ مرکزی قیادت کے دو ر میں ملک کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے ۔ غلام نبی آزاد نے ان باتوں کا اظہار پیر کو وسطی ضلع گاندربل کے گنڈ (کنگن) میں سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حق میں منعقد کئے گئے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خیال رہے کہ سری نگر پارلیمانی نشست کے لئے ضمنی انتخابات کے تحت 9 اپریل کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا ’جو فرقہ پرست آج ملک کی حکومت چلا رہے ہیں، یہ وہی لوگ جو ہندوستان کی جنگ آزادی کے وقت درپردہ طور پر انگریز سامراج کی پست پناہی کر رہے تھے‘ ۔

غلام نبی آزاد نے کہا کہ آج ہندوستان کے ریاستوں، جن میں گجرات ، مہارشٹرا ، یو پی ، اترا کھنڈ وغیرہ میں ، کس طرح مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے ۔ ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے ۔ ریاست میں جونہی پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو جموں کے کٹھوا سانبہ اور دیگر علاقوں کے گجر بستیوں کو اجاڑ دیا گیا اور نذر آتش بھی کر دیا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے پی ڈی پی والے جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ایسی طاقتوں کو ریاست میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دیں گے، نہ صرف ان فرقہ پرستوں کے ساتھ مل بیٹھی بلکہ ان کے مسلم کش اقدامات میں درپردہ تعاون بھی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری میڈیا، دور درشن، ریڈیو میں صرف مودی کی شکل ، مودی کی تقریر، من کی بات جیسے نشریات معمول بن گئے ہیں اور اپوزیشن کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ۔ انہوں نے رائے دہندگان سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر کشمیر کے عظیم ثپوت اور قومی اہمیت والے سیاسی رہنماء ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں تاکہ وہ کشمیری لوگوں کی صحیح حالات ، مشکلات ، مصائب سے ہندوستان کا ایوان با خبر کریں اور جنوبی کشمیر میں کانگریس کے امید وار غلام احمد میر کو بھی کامیاب کر کے پی ڈی پی امید وار کی ضمانت ضبط کریں۔

ملک میں اس وقت فرقہ پرست طاقتوں کی ڈکٹیٹرشپ اور غنڈوں کا راج : غلام نبی آزاد

غلام نبی آزاد: فائل فوٹو

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی اپنی انفرادیت ، وحدت ، پہچان اور کشمیریت کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں متحدد ہو کر رہنے کی ضرورت ہے ورنہ آر ایس ایس ریاست کو مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنے پر تلی ہوئی ہے ، جس کے لئے پی ڈی پی بھر پور معاونت اور مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں دفعہ 370 کو بھی ختم کرنے کے پیچھے لگی ہیں، جس کے تحت ریاست کے لوگوں کو خصوصی جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ 70برسوں سے یہ فرقہ پرست ریاست کے لوگوں کو اُن خصوصی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان جمہوری اور آئینی حقوق سے مکمل طور پر محروم کرنا چاہتے ہیں جو آئین ہند کے تحت ریاست کے لوگوں ملے ہیں اور جن کے تحت یہاں کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ 3شرائط پر الحاق کیا تھا۔ یہ لوگ ریاست کے مسلم کردار کو ہر سطح پر زخ پہچانے اور آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازشیں بھی کر رہے ہیں ۔ ان کا یہی ارادہ رہا ہے کہ مسلمانانِ ریاست کو کس طرح اقلیت میں تبدیل کیا جائے ۔ یہ لوگ اقتدار میں آکر ملک میں جمہوری اور آئینی حقوق سے اقلیتوں کو محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس طرح سے یہ لوگ ملک کو آگ لگا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 1947 کی طرح مسلمانوں کا تہیہ تیغ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہا راجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ مجبوراً الحاق کیا اور یہ بھی تین شرائط پر مبنی تھا ورنہ آنجہانی ہری سنگھ کشمیر کو ایک آزاد ملک کی حیثیت میں رکھنے کے خواہاں تھے اور ہندوستان و پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات متمنی تھے، جس طرح مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ متحدد کشمیر کے حامی تھے۔ انہوں نے کہا یہ شیر کشمیر کی دین کہ انہوں نے دفعہ 370 کو آئین ہند میں اندراج کر کے ریاست میں انفرادیت اور مسلم کردار ریاست کا مقام حاصل ہوا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا فرقہ پرست طاقتوں نے گاندھی اور نہرو کے ہندوستان کو آگ کے دہانے پر پہچادیا ہے جنہوں نے آزادی ہند کے لئے عظیم قربانیاں پیش کی اور سیکولر روایات کے ساتھ ساتھ تمام اقلیتوں کی حفاظت اور مذہبی آزادی کا لائحہ عمل مرتب کیا تھا لیکن بدقسمتی سے فرقہ پرستوں نے ہندوستان کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کو بھی نہ بخشا اور انہیں ہلاک کیا گیا کیونکہ مہاتما گاندھی مسلمانوں کے حقوق کے لئے بات کرتے تھے، وہ انصاف اور مساوات کی بات کرتے تھے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز