اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ہلاکت خیز واقعات میں حکمراں پارٹی ملوث: آزاد کا الزام

Jul 19, 2017 06:09 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 06:09 PM IST

نئی دہلی۔ ملک میں بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات پر مرکز کی این ڈی اے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے آج الزام لگایا کہ دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف مجرمانہ واقعات مرکز میں حکمراں پارٹی کی شہ پر انجام دیئے جا رہے ہیں اور ملک کا ماحول خراب کیا جا رہا ہے۔ مسٹر آزاد نے ملک بھر میں اقلیتوں اور دلتوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں مبینہ اضافہ سے پیدا صورتحال پر مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی طرف سے پیش کردہ نوٹس پر مختصر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریباً ہر ریاست میں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں خواہ وہاں کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو۔ اس طرح کے واقعات کے خلاف وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے بیان دیئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ باہمی رضامندی سے ان واقعات کو انجام دیا جاتا ہے کہ 'ہم بیان دیں گے آپ اپنا کام کرو'۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس طرح کے واقعات میں گرفتاریاں بھی ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک کوئی بھی ایسی ریاست نہیں ہے جہاں اس طرح کے واقعات نہیں ہو رہے ہیں اور اب تو ان واقعات کا مذہب سے بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ کشمیر میں مسلمانوں نے ہی ایک مسلم پولیس افسر کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوتے تھے لیکن ان کی نوعیت انفرادی ہوتی تھی، اس وقت جو واقعات ہو رہے ہیں ان میں حکمراں ٹولے سے وابستہ ایک تنظیم کے رکن کہیں نہ کہیں شامل ہوتے ہیں۔ مسٹر آزاد نے یہ استدلال بھی کیا کہ اس طرح کے واقعات سے مرکز میں حکمراں پارٹی کو فائدہ ہو رہا ہے۔ سیاسی فوائد کے لئے ایسے واقعات انجام دیئے جا رہے ہیں۔ اس کے ذریعے ووٹ کی سیاست ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام حفاظت کرنا ہے لیکن اب اس کی رضامندی سے ہی اس طرح کے واقعات کو انجام دیا جا رہا ہے۔ یہ ہندو مسلم یا مذہبی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کے درمیان جنگ ہے اور حکمراں پارٹی کے لئے یہ واقعات ووٹ کی سیاست بن گئے ہیں۔

اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ہلاکت خیز واقعات میں حکمراں پارٹی ملوث: آزاد کا الزام

سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور پی چدمبرم نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے۔

پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے بہر حال مسٹر آزاد کے اس الزام کو غلط بتا یا کہ موب لنچنگ کے واقعات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں جنید معاملہ سمیت ہر معاملے میں کارروائی کی گئی ہے۔ مسٹر آزاد نے پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک کی اندروني حالت اچھی نہیں ہوگی تو بیرونی عناصر سے کس طرح نبرد آزمائی کی جا سکے گی ۔ حزب اختلاف کے رہنما نے مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ اس طرح کے واقعات کا اكھاڑا بن گیا ہے۔ کبھی مردہ گائے کی چمڑی اتارنے کے لئے دلتوں پٹائی کی جاتی ہے تو کہیں مردہ گائے کو اٹھا کر نہ لئے جانے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز