گورکھپور: اسپتال نے لاش کے لئے ایمبولینس تک نہیں دی ، کہا : بچہ تو چھوٹا ہے ، ٹیمپو میں لے جاو

Aug 13, 2017 11:07 AM IST | Updated on: Aug 14, 2017 09:32 AM IST

گورکھپور : اتر پردیش کے گورکھپور میں بی آر ڈی کالج اسپتال پر الزام ہے کہ انہوں نے بچوں کی موت کے بعد ان کے لاشوں کو گھر تک پہنچانے کا بھی مناسب انتظام نہیں کیا تھا ۔  نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے راجیش نام کے شخص نے بتایا کہ وہ سدھارتھ نگر سے وہاں 9 اگست کو اپنے بچے کا علاج کروانے کے لئے آیا تھا ۔ راجیش کے مطابق  اس کے بچے کی حالت بہت خراب تھی اور وہ بار بار بری طرح کانپ رہا تھا ۔ جب راجیش نے اسپتال کے ڈاکٹروں سے پوچھا کہ اس کو کیا ہوا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ بچے کو کچھ نہیں ہوگا اور وہ دو چار دن میں بالکل ٹھیک ہو جائے گا ۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ بچے کو نمونيا ہوا ہے ، لیکن آخر میں بچے کی موت ہو گئی ۔ راجیش کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اصل میں اس کے بچے کی بیماری کے بارے میں مناسب طریقے سے پتہ ہی نہیں لگا پائے تھے ۔

راجیش کے مطابق  پہلے تو اسپتال والے اس کو گھر جانے ہی نہیں دے رہے تھے ، کیونکہ وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ وہاں آکر پریس کانفرنس کرنے والے تھے ۔ راجیش نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹروں نے بچے کی لاش کو گھر لے کر جانے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا تھا ۔ راجیش کے مطابق  اس نے ایمبولینس مانگی تو کہا گیا کہ تمہارا بچہ تو چھوٹا ہے ، اس کو تو ٹیمپو میں بھی لے کر جا سکتے ہو ۔ اس کے بعد راجیش اپنی بیوی کے بعد اپنے بیٹے کو گودی میں کپڑے سے ڈھانپ کر کھڑا رہا ۔

گورکھپور: اسپتال نے لاش کے لئے ایمبولینس تک نہیں دی ، کہا : بچہ تو چھوٹا ہے ، ٹیمپو میں لے جاو

راجیش نے بھی آکسیجن کی کمی کی بات کہی ۔ اس کے مطابق  اسپتال میں بستر اور ڈاکٹروں کی بھی کمی تھی ۔ راجیش نے کہا کہ وہاں ایک ڈاکٹر 60-60 لوگوں کا علاج کر رہا تھا ۔ گورکھپور کے اس استپال میں گزشتہ پانچ دنوں میں 60 سے زائد بچوں کی اموات کو لے کر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز