بی آر ڈی کالج میں مر رہے بچوں کے لئے فرشتہ بنے ڈاکٹر کفیل احمد، دوستوں سے مانگ کر لائے آکسیجن

Aug 12, 2017 07:04 PM IST | Updated on: Aug 12, 2017 07:06 PM IST

گورکھپور۔ جہاں جمعرات کی رات کو گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی سے بچے تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے وہیں ایک ڈاکٹر کچھ بچوں کے لئے فرشتہ بن کر سامنے آیا۔ انسیفلائٹس وارڈ کے انچارج اور امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر کفیل کی سوشل میڈیا پر خوب تعریف ہو رہی ہے۔ دراصل جمعرات کی رات تقریبا دو بجے انہیں اطلاع ملی کہ اسپتال میں آکسیجن کی کمی  ہو گئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر سمجھ گئے کہ صورت حال کتنی خوفناک ہونے والی ہے۔

آنا فانا میں وہ اپنے دوست ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور آکسیجن کے تین سلنڈر اپنی گاڑی میں لے کر جمعہ کی رات تین بجے براہ راست بی آر ڈی اسپتال پہنچے۔ تین سلنڈر سے امراض اطفال سیکشن میں تقریبا 15 منٹ آکسیجن کی فراہمی ہو سکی۔ رات بھر کسی طرح سے کام چل پایا، لیکن صبح سات بجے آکسیجن ختم ہوتے ہی ایک بار پھر صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ ڈاکٹر نے شہر کے گیس سپلائر سے فون پر بات کی۔ بڑے افسران کو بھی فون لگایا لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔

ڈاکٹر کفیل احمد ایک بار پھر اپنے ڈاکٹر دوستوں کے پاس مدد کے لئے پہنچے اور تقریبا ایک درجن آکسیجن سلنڈر کا جگاڑ کیا۔ اس درمیان انہوں نے شہر کے قریب 6 آکسیجن سپلائر کو فون لگایا۔ سب نے کیش ادائیگی کی بات کہی۔ اس کے بعد کفیل احمد نے بغیر تاخیر کئے اپنے ملازم کو خود اے ٹی ایم دیا اور پیسے نکال کر آکسیجن سلنڈر لانے کو کہا۔

اس دوران ڈاکٹر نے ایمبو پمپ سے بچوں کو بچانے کی کوشش بھی کی۔ ڈاکٹر کفیل کی اس کوشش کی سوشل میڈیا پر خوب تعریف ہو رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز