بچوں کی اموات کے معاملہ میں گورکھپور میڈیکل کالج کے پرنسپل معطل، انکوائری کمیٹی کی تشکیل

Aug 12, 2017 09:02 PM IST | Updated on: Aug 12, 2017 09:02 PM IST

گورکھپور۔ اترپردیش حکومت نے گورکھپور کے بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں بچوں کی ناگہانی موت پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے وہاں کے پرنسپل کو معطل کر دیا ہےاور چیف سکریٹری کی صدارت میں جانچ کے لیے اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر گوركھپور آئے طبی تعلیم کے وزیر آشوتوش ٹنڈن اور وزیر صحت سددھارتھ ناتھ سنگھ نے تسلیم کیا کہ آکسیجن کی فراہمی میں خلل پیدا ہوگیا تھا لیکن بچوں کی موت کا سبب اور بھی کچھ ہے۔ مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ ابتدائی طور پر میڈیکل کالج کے پرنسپل کو قصوروار مانتے ہوئے معطل کر دیا گیا ہے۔ چیف سکریٹری کی صدارت میں تشکیل شدہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ 10 اگست کی رات ساڑھے 11 بجے سے ڈیڑھ بجے تک دو گھنٹے آکسیجن کی فراہمی میں خلل پیدا ہوگیا تھا۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ساڑھے سات بجے شام کوہی آکسیجن کا پریشر کم ہونے لگا تھا۔ مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی کہ آکسیجن کی فراہمی میں خلل کیوں پیدا ہوا اس کا بھی پتہ لگایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ آکسیجن کی فراہمی کرنے والے ڈیلرکو ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ ڈیلر کے مطابق اس نے یکم اگست کو پرنسپل کو ادائیگی کے لیے خط لکھا تھا۔ اس کی نقل طبی تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل کولکھنؤ بھی بھیجی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ اگست کو اس کی ادائیگی کے لئے رقم میڈیکل کالج کو بھیج دی گئی تھی۔ پرنسپل کا کہنا ہے کہ سات اگست

بچوں کی اموات کے معاملہ میں گورکھپور میڈیکل کالج کے پرنسپل معطل، انکوائری کمیٹی کی تشکیل

ریاستی وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ

کو میڈیکل کالج میں رقم آئی۔ ڈیلر کا کہنا ہے کہ 11 اگست کو اس کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر ہوئی۔ تاخیر کیوں ہوئی، یہ بھی تفتیش کے دائرے میں ہوگا۔

طبی تعلیم کے وزیر نے کہا کہ آکسیجن حیات بخش مادہ ہے۔ فراہمی کیوں روکی گئی، اس کی کیا وجہ تھی۔ اس سب کی جانچ چیف سکریٹری کی صدارت میں بننے والی اعلی سطحی کمیٹی کرے گی۔ کمیٹی کی رپورٹ جلد آئے گی۔ رپورٹ کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

اب فی الحال پرنسپل کو معطل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وزیر صحت سددھارتھ ناتھ سنگھ نے 2015 اور 2016 کے اگست میں بچوں کی ہوئی اموات کی سلسلہ وار تفصیلات بھی پیش کیں۔ غور طلب ہے کہ گورکھپور اور اس کے ارد گرد کے علاقے 70 کی دہائی سے ہی دماغی بخار سے متاثر ہیں۔ بارش کے موسم میں اس بیماری سے ہر سال سینکڑوں بچوں کی موت ہو جاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز