مختار عباس نقوی کا دعوی ، حکومت شفافیت اور صلاحیت کے ذریعہ تبدیلی کی جانب گامزن

Jul 10, 2017 06:28 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 06:28 PM IST

نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور(آزادانہ چارج) مختار عباس نقوی نے آج کہا ہے کہ مرکزی حکومت شفافیت اور صلاحیت کے ذریعے تبدیلی کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی نگراں افسروں کی ایک ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے مسٹر نقوی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے تحت شفافیت غریبوں اور ضرورت مندوں کی ترقی کا پیمانہ ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وہ خود اقلیتی امور کی وزارت کی تمام اسکیموں کی نگرانی کررہے ہیں تاکہ ان اسکیموں کے فائدے مکمل شفافیت کے ساتھ ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت پوری طرح آن لائن اور ڈیجیٹل کردی گئی ہے۔ اس ڈیجیٹل نظام میں بچولیوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے۔ اس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ترقی کے فائدے معاشرے کے ہر ضرورت مند تک پہنچیں۔ مختلف اسکالرشپ براہ راست طلبا کے بینک کھاتوں میں دی جارہی ہے، چاہے یہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمیں ہوں یا حج کے معاملات، ہماری وزارت نے مکمل شفافیت کو یقین دلایا ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ بنیادی سطح پر اسکیموں کے بہتر اور ایماندارانہ نفاذ نئی اسکیموں کے اعلان سے زیادہ اہم ہے۔

مختار عباس نقوی کا دعوی ، حکومت شفافیت اور صلاحیت کے ذریعہ تبدیلی کی جانب گامزن

مسٹر نقوی نے کہا کہ انھوں نے اقلیتی امور کی وزارت کے اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنیادی سطح پر لوگوں تک پہنچیں، تاکہ مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے نفاذ کا جائزہ لیا جاسکے، جو ان کی وزارت کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ انھوں نے پروگریس پنچایت شروع کی ہے، جس کا مقصد مختلف اسکیموں کی بنیادی سطح کی رپورٹ کو آگے لے جانا، عام آدمی کے مسائل سننا اور ان کے مسائل کو حل کرنا ہے۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ ہم مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تقریباً 280 نگراں افسروں کی خدمات کا استعمال کریں گے، تاکہ ایم اے ای ایف پروگراموں کے ساتھ ساتھ اقلیتی امور کی وزارت کی مختلف اسکیموں کے نفاذ پر قریبی نگاہ رکھی جاسکے۔ یہ نگراں افسر ہماری فلاحی اسکیموں کے لئے واچ ڈاگ کے طورپر کام کریں گے۔ ان نگراں افسروں میں اعلیٰ سطح کے تجربہ کار سرکاری ریٹائر افسران اور تعلیمی میدان میں کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ وہ اسکیموں کے بہتر نفاذ میں وزارت کو زبردست فائدہ پہنچائیں گے۔

اس ورکشاپ کا اہتمام اقلیتی امور کی وزارت کے مختلف اسکیموں اور مالی امداد کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات کے ساتھ نگراں افسروں کو جدید تکنیک سے لیس کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ یہ نگراں افسر ایم اے ای ایف کے ذریعے امداد منظور کرنے کے لئے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر اپنی سفارشات پیش کرتے ہیں۔ یہ امداد اداروں کے معائنہ کے بعد نگراں افسروں کی رپورٹوں اور سفارشات کی بنیاد پر منظور کی جاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز