ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کی این سی پی یو ایل کے انضمام کی مخالفت، کہا، اردو کی تباہی کے ذمہ دار لوگوں کا بھی مواخذہ کیا جانا چاہئے

Jun 15, 2017 10:18 AM IST | Updated on: Jun 15, 2017 12:50 PM IST

نئی دہلی۔ اردو زبان  وادب کے فروغ کے لئے قائم اردو کے سب سے بڑے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان( این سی پی یو ایل) کے پر کترنے کی تیاری مرکزی حکومت نے اب شروع کر دی ہے۔ خبر ہے کہ این سی پی یو ایل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی( مانو) میں ضم کر دیا جائے گا۔

 انڈین ایکسپریس کے فائنانشیل ایکسپریس میں شائع نیتی آیوگ اور پی ایم او کے حوالہ سے رپورٹر نے لکھا ہے کہ پہلے مرحلہ میں ملک کے 679 خود مختار اداروں کو ایک دوسرے میں ضم کر دیا جائے گا۔ وہ خود مختار ادارے جو سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت منسٹری سے وابستہ ہیں ،انہیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایسے 679ادارے ہیں جن کے کام کاج کو مشتبہ پایا گیا ہے۔ اس میں سے آدھے کو بند کر دیا جائے گا اورآدھے کو کسی نہ کسی ادارے میں ضم کر دیا جائے گا۔ ان اداروں کی فہرست میں این سی پی یو ایل بھی شامل ہے جسے ضم کے زمرے میں رکھا گیا ہے ،یعنی اسے پوری طرح ختم نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کی این سی پی یو ایل کے انضمام کی مخالفت، کہا، اردو کی تباہی کے ذمہ دار لوگوں کا بھی مواخذہ کیا جانا چاہئے

این سی پی یو ایل کے سابق ڈائریکٹر اور جے این یو میں اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین: فائل فوٹو

خیال رہے کہ این سی پی یو ایل کو جامعہ یا مانو میں ضم کرنے کے بعد اس کی حیثیت محض ایک شعبہ کی ہو کر رہ جائے گی ۔ اس کی بہت ساری اسکیمیں بند کر دی جائیں گی اور اسے دئیے جانے والے سالانہ بجٹ میں زبردست کٹوتی کر دی جائے گی۔

انڈین ایکسپریس میں شائع اس خبر پر رد عمل جاننے کے لئے نیوز ۱۸ نے جب این سی پی یو ایل کے سابق ڈائریکٹر اور جواہر لال نہرو یونیورسیٹی میں اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ اکرام سے رابطہ کیا  تو انہوں نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے چھوٹے بڑے تقریباً سات سو ادارے ہیں جن پر حکومت نظر ثانی کرنا چاہ رہی ہے۔ چنانچہ اگر یہ ادارے کسی دوسرے ادارہ میں ضم ہو جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ این سی پی یو ایل بھی ضم ہوتا ہے تو اس میں کسی کو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام نے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں جب این سی پی یو ایل میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں ہو رہی تھیں ، اس وقت اردو میڈیا کے لوگ کہاں تھے۔  انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سال میں جب متعلقہ ادارے میں بڑے پیمانہ پر لوٹ کھسوٹ مچی ہوئی تھی اور اسے اجاگر کرنے کے لئے اردو اخبارات اور میڈیا والوں کو جب رپورٹیں بھیجی جاتی تھیں تو سوائے چند ایک کے دیگر میڈیا اداروں نے ان رپورٹوں سے صرف نظر کیا اور انہیں اشاعت کے لائق نہیں سمجھا، انہوں نے سوالیہ اندازمیں پوچھا کہ بالآخر، اخبارات اور میڈیا کے لوگ اب کیوں بیدار ہوئے ہیں۔

نئی دہلی کے جسولہ میں واقع این سی پی یو ایل کی عمارت نئی دہلی کے جسولہ میں واقع این سی پی یو ایل کی عمارت

 خواجہ اکرام نے مزید کہا کہ خواہ سیمیناروں یا سمپوزیم کے انعقاد کا معاملہ ہو، عالمی کانفرنسوں کے اہتمام کئے جانے کی بات ہو، کتابوں کی مالی امداد کا معاملہ ہو، ان سب میں بڑے پیمانہ پر بدعنوانی کی گئی اور جانبدارانہ رویہ اپنایا گیا۔ انہوں نے یہ سنگین الزام بھی عاید کیا کہ اردو کے نام پر قائم اس ادارے کے ذریعہ گزشتہ دو سال میں پچاس چھوٹے غیر اردو اداروں کو  بھی سیمینار اور سمپوزیم کے لئے لاکھوں روپئے دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل میں جاری بدعنوانی کے خلاف ایچ آر ڈی میں  ہزاروں درخواستیں دی گئی ہیں اور بدعنوانی کی جانچ کے لئے ایچ آر ڈی نے ایک کمیٹی بھی تشکیل  دے رکھی ہے جو جانچ کر رہی ہے۔ این سی پی یو ایل کو دیگر اداروں میں ضم کئے جانے کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ یہ اردو زبان کا واحد خود مختار ادارہ ہے اور اس کے انضمام کی بات اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی تباہی کے لئے جو لوگ ذمہ دار ہیں ، ان کا مواخذہ ضرور کیا جانا چاہئے۔

دوسری طرف، اس خبر کے حوالہ سے معروف صحافی زین شمسی اپنے فیس بک وال پر لکھتے ہیں ’’  قومی کونسل نے بھی بھیانک غلطی کی۔ اپنے سارے پروگرام میں وہ این سی پی یو ایل کی حصولیابیوں کو مشتہر کرنے لگی۔ ظاہر ہے یہ سرکار کو اور دیگر ایجنسیوں کو راس نہیں آیا۔ دوسرے ادارے یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قومی کونسل کے پاس بہت زیادہ اسکیمیں ہیں اور اس سے اردو کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اردو والوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ گویا اس کی حصولیابی ہی اس کے گلے کی ہڈی بن گئی‘‘۔

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم: فائل فوٹو این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم: فائل فوٹو

 نیوز ۱۸ نے اس سلسلہ میں جب این سی پی یو ایل کے موجودہ ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کرنا چاہا تو بار بار کی کوشش کے باوجود ان کا موبائل سوئچ آف ہی رہا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز